ملاعمر زندہ اور تحریک کی قیادت کررہے ہیں‘ افغان طالبان افواہوں کی تردید

July 30, 2015 3:55 pm0 commentsViews: 49

انتقال سے متعلق خبریں چلانے کا مقصد انہیں منظر عام پر لانا ہے‘ ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا وائس آف امریکہ کو انٹرویو
ملا عمر کی کراچی میں انتقال کرنے کی خبروں کا مقصد افغان حکومت اور طالبان مذاکرات کو سبوتاژ کرنا ہے‘ سرکاری ذرائع کا دعویٰ
کابل/ واشنگٹن/ اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) افغان طالبان نے اپنے سپریم لیڈر ملا عمر کے انتقال کے حوالے سے افغان حکومت اور ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کو افواہ قرار دے کر سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے وائس آف امریکا کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملا عمر مجاہد زندہ اور افغان طالبان کی قیادت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملا عمر کے انتقال سے متعلق خبریں چلانے کا مقصد انہیں منظر عام پر لانا ہے۔  وہ اس وقت گوشہ نشین ہیں۔ واضح رہے کہ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے بدھ کے روز اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ افغان طالبان کے سربراہ  ملا عمر 2 یا3 سال قبل انتقال کر چکے ہیں۔ اور ان کی موت کی تصدیق افغان صدر اشرف غنی نے اعلیٰٰ انٹیلی جنس حکام کو بریفنگ کے بعد کی ہے۔ طالبان سربراہ ملا محمد عمر کے انتقال کی افواہیں ایک ایسے وقت میں پھیلائی جا رہی ہے جب طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کا دوسرا اور انتہائی اہم دور جمعہ کو متوقع ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ پاکستان قاضی خلیل اللہ نے بی بی سی کی خبر کی تصدیق تک اس پر تبصرہ سے انکار کر دیا اور کہا ہے کہ وہ مکمل معلومات کے بعد ہی اس بارے میں اپنا باضابطہ موقف جاری کریں گے۔ علاوہ ازیں سرکاری ذرائع نے ملا عمر کی کراچی میں مرنے کی خبروں کی سختی سے تردید کردی اور کہا ہے کہ ایسی خبریں پاکستان کے خلاف سازش اور افغان حکومت طالبان مذاکرات سبو تاژ کرنے کے لئے پھیلائی جا رہی ہیں سرکاری ذرائع کے مطابق ملا عمر کے زندہ ہونے یا مرنے کی تردید یا تصدیق افغان طالبان نے کرنی ہے وہ نہ تو کبھی کراچی آئے اور نہ ایسا کوئی واقعہ ہوا۔

Tags: