دریائے سندھ میں طغیانی کچے کے درجنوں گائوں زیر آب‘ سینکڑوں خاندان محصور

July 30, 2015 3:57 pm0 commentsViews: 30

سیلاب زدہ اور بارش سے متاثرہ علاقوں میں موذی امراض پھیلنا شروع‘ امدادی کارروائیاں شروع نہ ہوسکیں
پاک فوج نے گڈو بیراج سے ملحقہ 17 بندوں کی فضائی اور زمینی نگرانی شروع کردی نیوی بوٹس سے لوگوں کو نکالنے کی کوششیں
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) دریائے سندھ میں طغیانی سے کچے کے مزید درجنوں گائوں زیر آب آگئے سینکڑوں خاندان محصور، پانی میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لئے صوبائی حکومت کی جانب امدادی کارروائی شروع نہیں کی گئی ہیں۔ سیلاب زدہ اور بارش سے متاثرہ علاقوں میں موذی امراض پھیلنا شروع ہوگئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق دریائے سندھ میں پانی کے بہائو میں اضافے سے کچے کے علاقے کے ٹی بگھیوں، کے ٹی منگی ماڑی، کے ٹی پٹھان، اقبال کلہوڑو، عبدالرحمن، گلشن کلہوڑو، وریام مور ممرانی سمیت50 سے زائد گائوں زیر آب آگئے ہیں۔ کچے کے سیکڑوں گائوں کو پکے سے ملانے والا صدا واہ پل بھی منہدم ہوگیا ہے جس کی وججہ سے ہزاروں افراد پانی میں پھنس گئے ہیں انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک کوئی انتظامات نہیں کئے گئے۔ متاثرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہزاروں افراد کچے میں پھنسے ہوئے ہیںن ان کی کوئی بھی مدد کرنے کیلئے تیار نہیں۔ متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں رہائش اور کھانے پینے کی اشیاء فراہم کی جائیں، گڈو بیراج کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کے باعث محکمہ انہار کی درخواست پر فوج نے گڈو بیراج سے ملحقہ 17 بندوں کی فضائی اور زمینی نگرانی شروع کر دی ہے، نیو بوٹس سے متاثرین کو نکالنے کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ادھر محکمہ آبپاشی کی نا اہلی کی وجہ سے جمڑائوں نہر میں گنجائش سے کہیں زیادہ پانی چھوڑ دیا گیا جس سے سیکڑں ایکڑ اراضی پانی میں ڈوب گئی اور کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔ ادھر ڈویژنل کمشنر شہید بے نظیر آباد غلام مصطفیٰ پھل نے کچے کے لوگوں کو خبر دار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دریائے میںپانی کی سطح بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا۔

Tags: