شہر میں ماسیوں کے روپ میں ڈکیت خواتین کے 3 بڑے گروپ سرگرم

July 30, 2015 4:37 pm0 commentsViews: 61

ڈکیت گروپ کی خواتین گھروں میں ملازمت کے دوران پہلے گھر کا جائزہ لیتی ہیں اور فرار کیلئے داخلی و خارجی راستے تلاش کرتی ہیں
واردات کے بعد علاقہ چھوڑدیتے ہیں اور لوٹے ہوئے زیورات و دیگر سامان پنجاب جاکر فروخت کرتے ہیں‘ گرفتار ملزمان کا انکشاف
کراچی( نیوز ڈیسک) شہر میں ماسیوں کے روپ میں گھروں میں کام کرنے کے بہانے ڈکیتیاں کرنے والی خواتین کے3 بڑے گروپ سر گرم ہوگئے۔ گرفتار ڈکیت مردوں اور خواتین نے انکشاف کیا ہے کہ پوش علاقے خاص طور پر ڈکیت خواتین کیلئے آسان ہدف ہیں۔ ہر گروپ میں 8 سے10 خواتین اور مرد شامل ہوتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز آدم جی نگر بلاکB مکان نمبر 198 کے رہائشی میمن تاجر کے گھر سے 1 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا سامان چوری کرنے والے ڈکیت میاں بیوی عامر اور ثمینہ بہادر آباد پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تفتیش میں بتایا ہے کہ ان کا تعلق پنجاب سے ہے اور وہ اپنے دیگر مرد اور خواتین رشتہ داروں کے ہمراہ کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔ ملزمان نے3 گروپ بنا رکھے ہیں۔ ہر گروپ میں8 سے10 افراد شامل ہیں ان کی خواتین کسی گھر میں ملازمت کے لئے جاتی ہیں تو پہلے گھر کا جائزہ لیتی ہیں اور داخلی و خارجہ راستوں کو اچھی طرح چیک کر تی ہیں، تا کہ ان واردات کے بعد با آسانی فرار ہوا جا سکے۔ کام مل جاتا ہے تو وہ مرد یا عورت کام کے دوران ان تمام قیمتی اشیاء اور نقدی و زیورات پر نظر رکھتی ہیں اور اس وقت تک واردات نہیں کرتے جب تک گھر والوں کا اعتماد پکا نہ ہوجائے۔ اچھی طرح مانیٹرنگ کے بعد گروپ کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ واردات والے روز سارا گروپ اکٹھا ہو کر واردات کرنے جاتا ہے۔ وہ گھر آسان ہدف ہوتا ہے جس میں چھوٹی فیملی رہائش پذیر ہو۔ کیونکہ جتنی چھوٹی فیملی ہوگی۔ واردات اتنی ہی آسان ہوگی۔ گرفتار ملزمان نے بتایا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ جہاں ملازمت ملے اس کے قریب کچی آبادی میں رہائش رکھی جائے۔ وہ واردات کے بعد فوری علاقہ چھوڑ دیتے ہیں اور لوٹے ہوئے طلائی زیورات اور دیگر سامان گرفتاری سے بچنے کے لئے پنجاب جا کر فروخت کرتے ہیں۔

Tags: