الطاف حسین کے خلاف اب فیصلہ کن کارروائی کی جائیگی عسکری اداروں کا حکومت کو پیغام

August 3, 2015 5:05 pm0 commentsViews: 20

متحدہ کے قائد نے ریاست اور اداروں کی توہین کی ہے، بھارت اور نیٹو سے کراچی چلانے کا مطالبہ کرنا پاکستان کیخلاف اعلان جنگ ہے، چوہدری نثار
ملک کے اہم ادارے کی شخصیت کا وزیراعظم نوازشریف اور وزیرداخلہ چوہدری نثار سے رابطہ، متحدہ کے قائد کے خلاف برطانوی حکومت کے ساتھ کھل کر بات کی جائے، عسکری اداروں کا حکومت سے مطالبہ، پاکستان کے خلاف بات کرنے والوں کو نشان عبرت بنانا ہوگا،چوہدری نثار اور شہباز شریف کے بیانات کو سول ملٹری قیادت کا بیان سمجھا جارہا ہے، ذرائع
وفاقی حکومت نے ایم کیو ایم قائد کی تقاریر پر مکمل طور پر پابندی لگانے پر غور شروع کردیا، الطاف حسین نے تمام حدیں پار کرلی ہیں، قانونی چارہ جوئی کے لیے آئندہ چند روز میں حکومت برطانیہ کو ریفرنس بھجوائیں گے، ایم کیو ایم خواہ کچھ بھی کہے کراچی میں آپریشن جاری رہے گا، وفاقی وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس
اسلام آباد( نیوز ڈیسک) ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی جانب سے اقوام متحدہ اور نیٹو فوج سے کراچی میں مداخلت کرنے کے مطالبے پر پاکستان کی قومی اور عسکری قیادت نے اپنے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق عسکری قیادت نے حکومت کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ اب متحدہ کے قائد کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے اور ملک کے خلاف بولنے والوں کو نشان عبرت بنایا جائے گا عسکری اداروں نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی ریاستی اداروں اور فوج کے خلاف مسلسل ہرزہ سرائی کو نا قابل قبول قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اب حکومت کو الطاف حسین کے خلاف فیصلہ کن اقدام کرنا ہوگا۔ ان اداروں نے الطاف حسین کے ٹیلی فونک خطاب پر بھی پابندی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے اتوار کو ایک اہم ادارے کی شخصیت نے رابطہ کیا تھا۔ جس میں ان کی توجہ الطاف حسین کے حالیہ بیان اور اس کے اصل مندرجات کی طرف دلائی گئی جسے چوہدری نثار علی خان نے بھی نا قابل قبول قرار دیا اور اسی لئے انہوں نے اتوار کی شام کو الطاف حسین کے خطاب کے حوالے سے اہم پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کے قائد کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عسکری اداروں نے حکومت پر واضح کر دیا ہے اب الطاف حسین کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔ برطانوی حکومت سے دو ٹوک بات کی جائے اور اعلیٰ سطح پر اسے اٹھایا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ کے بیان کو سول ملٹری قیادت کا بیان سمجھا گیا ہے اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے جو بیان دیا ہے ان کے بیان کو بھی اہم حکومتی شخصیت کی آشیر باد حاصل ہے۔ علاوہ ازیں ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے الطاف حسین اور ان کے جرائم میں ملوث ساتھیوں پر پاکستان میں ہر قسم کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت محمد انور، طارق میر، سلیم شہزاد، ذوالفقار حیدر، ندیم نصرت اور دیگر کی پاکستان آمد پر انہیں گرفتار کرنے کے ساتھ ان کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ جب کہ الطاف حسین سمیت دیگر پر ٹیلی فونک خطاب پر بھی پابندی ہوگی۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ الطاف حسین کی تقاریر کو براہ راست نشر کرنے پر تو پابندی عائد کی گئی ہے لیکن حکومت ایم کیو ایم کے قائد کی تقاریر پر مکمل پابندی کے بارے میں غور کر رہی ہے۔ ان کی تقریر ملک کی سا لمیت اور خود مختاری کے خلاف سازش ہے۔ جس میں بھارت سمیت غیر ملکی افواج کو پاکستان میں مداخلت کے لئے کہا گیا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے ریاست اور قومی اداروں کی تضحیک کی ہے۔ بھارت اور نیٹو سے کراچی چلانے کا مطالبہ پاکستان کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ الطاف حسین کی نفرت انگیز تقاریر کا معاملہ برطانیہ کے ساتھ اٹھائیں گے۔ آئندہ چند دنوں میں قانونی چارہ جوئی کے لئے حکومت برطانیہ کو ریفرنس بھجوائیں گے۔ الطاف حسین نے تمام حدیں پار کر لیں، ایم کیو ایم خواہ جو بھی کہے۔ کراچی آپریشن جاری رہے گا۔ لندن میں چلنے والے دو کیسز میں بھی حکومت برطانیہ سے تعاون کریں گے۔ فوج اور سیکورٹی ادارے ملکی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو نشانہ بنانے کا تاثر غلط ہے۔ ایم کیو ایم کی طرف سے کئی تقاریر کی گئی ہیں گزشتہ روز لندن سے کی گئی تقریر نے تمام حدیںہی پار کر دیں ، الطاف حسین کی جانب سے فوج پر مضحکہ خیز الزام لگایا گیا۔ قائد اعظم اور فاطمہ جناح سے متعلق غلط الزام لگائے گئے بھارت سے پاکستان میں مداخلت کرنے کا کہا گیا۔ الطاف حسین نے جو الزامات لگائے ہیں وہ کوئی پاکستان دشمن ہی لگا سکتا ہے۔ وہ محب وطن نہیں ہو سکتا۔ ایم کیو ایم محب وطن جماعت ہے۔ ایم کیو ایم کا کوئی لیڈر اس قسم کے بیانات کے نزدیک نہیں جا سکتا۔ الطاف حسین کے خلاف مقدمات شہریوں نے کئے ہیں۔ الطاف حسین کو ان مقدمات سے کوئی خطرہ نہیں ہے ان کو اصل خطرہ برطانیہ میں چلنے والے کیسز سے ہے وہ ان کیسوں کا غصہ پاکستان پر نکالنا چاہتے ہیں۔

Tags: