بجلی سرچارج کے نام پر صارفین سے 120 ارب روپے وصول کرنے کا منصوبہ

August 3, 2015 5:11 pm0 commentsViews: 25

حکومت نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی بدانتظامی اور نااہلی کا بوجھ بل ادا کرنے والے صارفین پر ڈالنے کا فیصلہ کرلیا
لاہور ہائی کورٹ نے ریگولائزیشن اور ڈیٹ سروسنگ سرچارج کالعدم قرار دیا ہے حکومت نے نام تبدیل کرکے سرچارج دوبارہ لاگو کردیا
اسلام آباد( نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نے بجلی کے بل ادا کرنے والے صارفین پر نئے نام سے دوہرے چارج عائد کر دیئے ہیں جس سے عوام کی جیبوں سے120 ارب روپے اضافی نکالے جائینگے۔ بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے جولائی کے بلوں میں یہ دوہرے چارج لگا کر بھجوائے ہیں۔ جس کی وجہ سے صارفین کو دگنا بل ادا کرنا پڑ رہا ہے ۔ وزارت خزانہ کے حکام کاکہنا ہے کہ ان سر چارج سے ملنے والی رقم سر کلر ڈیٹ کی ادائیگی پر خرچ کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی بد انتظامی اور نا اہلی کا بوجھ بل ادا کرنے والے صارفین پر ڈالنے کیلئے ایکولائزیشن سر چارج اور ڈیٹ سروسنگ سرچارج لگائے جنہیں لاہور ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دیدیا ہے۔ اجلاس ان دوہرے چارج کا نام تبدیل کرکے ٹیرف ریشنلائزیشن اور فنانسنگ کاسٹ کے نام سے منظوری دیدی ہے۔ اور جولائی کے بلوں میں صارفین کو ٹیرف ریشنلائزیشن اور فنانشل کاسٹ کے نام سے دو نئے سر چارج بلوں میں لگا کر بھجوا دئے گئے ہیں۔ یہ دو نئے سر چارج 2.08 روپے فی یونٹ کے حساب سے لگائے گئے ہیں۔ جس سے حکومت کو توقع ہے کہ مالی سال2015-16 کے دوران120 ارب روپے اضافی ملیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان دوہرے چارج میں سے ایک کا مقصد سر کلر ڈیٹ کی ادائیگی اور دوسرا سر چارج ہائیڈرل پاور منصوبوں کیلئے فنڈز اکٹھے کرنا ہے۔

Tags: