حساس تحقیقات کراچی میں مشتبہ مدارس پر ڈرون حملوں کا خدشہ

August 4, 2015 4:19 pm0 commentsViews: 31

مدارس سے متعلق معلومات غیرمحفوظ ہاتھوں میں ہونے کے باعث ملک دشمنوں کے ہاتھ لگنے کا اندیشہ ہے
پولیس کے خفیہ شعبے شہر میں قائم مدارس کی رجسٹریشن، مالکانہ حقوق، ذرائع آمدن،عمارتوں کی اندرونی و بیرونی صورتحال، زیرتعلیم طلبہ و اساتذہ کا تعلیمی پس منظر اور انتہاپسند تنظیموں سے تعلقات کے بارے میں معلومات جمع کررہے ہیں
مدارس سے متعلق تفصیلات جمع کرنے کے پروفارمے میں فاصلے کے مخصوص پیمانے کے کالم شامل ہیں، تحقیقات کے دوران جدید آلات کی مدد سے ڈرون حملوں کے لیے درکار تکنیکی اعداد و شمار بھی جمع کیے جارہے ہیں
کراچی( کرائم ڈیسک) کراچی میں بعض مشتبہ مدارس کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے شواہد ملنے اور حساس تحقیقات کے بعد ان مدارس پر ڈرون حملوں کا اندیشہ ہے۔ مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں قائم دہشت گردی میں ملوث مدارس کی تحقیقات نے خطرناک شکل اختیار کرلی مذکورہ مدارس کے حوالے سے حاصل کی جانے والی معلومات کو ڈرون حملوں کے لئے استعمال کئے جانے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ کراچی پولیس کے اہم ذرائع کے مطابق پولیس کے خفیہ اہلکاروں کے ذریعے ڈرون حملوں کیلئے استعمال کئے جانے والے مخصوص خفیہ آلات کی مدد سے ڈرون حملوں سے قبل ہدف پر حملہ کرنے کیلئے درکار تکنیکی اعداد شمار حاصل کئے جا رہے ہیں۔ مشتبہ مدارس کی حساس معلومات غیر محفوظ ہاتھوں میں ہونے کے باعث قبل از وقت دشمن قوتوں کے ہاتھ لگنے کا اندیشہ ہے۔ مذہبی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے10 مدارس کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے شبے میں سر فہرست رکھا گیا ہے۔ مدارس کے منتظمین فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ سمیت سابقہ و حالیہ اساتذہ اور غیر ملکی طلباء کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کی تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔ کرچی پولیس کے خفیہ شعبے شہر میں قائم مدارس کی ایسی تفصیلات جمع کر رہے ہیں جیسی مطلوب اہداف پر ڈرون حملے کرنے سے قبل حاصل کی جاتی ہیں۔ اس ضمن میں حاصل کی جانے والی معلومات کا سب سے تشویشناک پہلو یہ بھی ہے کہ مذکورہ حساس ترین معلومات کسی ایک مخصوص ادارے کے ذمہ دار کی بجائے کراچی پولیس کے درجنوں افسران اور نچلے درجے کے اہلکاروں کے ہاتھوں میں موجود ہے۔ جس کے باعث اہم ترین معلومات ملک دشمن قوتوں یا ان کے ایجنٹوں کے ہاتھ لگنے کا واضح خدشہ موجود ہے۔ با خبر ذرائع کے مطابق کراچی پولیس کے خفیہ شعبے شہر کے زون میں موجود رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ مدارس کا مطلوبہ ریکارڈ اور دیگر معلومات جمع کر رہے ہیں حاصل کی جانے والی معلومات میں مدرسے کے مالکانہ حقوق، ذرائع آمدنی، عمارتوں کی اندرونی و بیرونی صورتحال منتظمیں کے مکمل کوائف، ان میں زیر تعلیم طلبہ و اساتذہ کے آبائی و تعلیمی پس منظر سمیت اسلامی انتہا پسند تنظیموں سے ان کے تعلقات کی تمام تر تفصیلات شامل ہیں اس کے علاوہ مدارس سے فارغ التحصیل طلبہ خاص طور پر جہادی سرگرمیوں میں ملوث رہنے والے سابق طلباء و اساتذہ کی تفصیلات بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اب تک مکمل طور پر صرف سائوتھ زون کے مدارس کی تفصیلات حاصل کی جا سکی ہیں۔ جبکہ دیگر زون کے مدارس پر کام جاری ہے۔ سائوتھ زون میں66 بڑے مدارس ہیں جن میں52 رجسٹرڈ اور14 غیر رجسٹر مدارس شامل ہیں۔ کراچی پولیس کے خفیہ شعبے کی جانب سے مدارس سے حاصل کی جانے والی معلومات میں مدارس کی تصاویر، ان کے مکمل پتے، مالکان کے نام، طلبا اور مدرسے میں موجود اسلحے کی اقسام و تعداد شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حد تک لی جانے والی معلومات وقت اور حالات کی اہم ترین ضرورت ہے۔ دوسری جانب مدارس کی تفصیلات کے ساتھ تکنیکی معلومات بھی حاصل کی جا رہی ہیں جو خاص طور پر ڈرون حملوں سے قبل حاصل کی جاتی ہیں۔ ڈرون حملوں سے قبل امریکی افواج اپنے مطلوبہ غیر متحرک ہدف کی درست نشاندہی کے لئے مخبروں یا دوسرے ذرائع کے ذریعے ہدف کا (Longiude) طول بلد اور (Latitude) عرض بلد حاصل کرتی ہے۔ اس طرح مطلوبہ ہدف کے چوکنے کے امکانات صفر ہوجاتے ہیں۔ کراچی پولیس کی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے حاصل کی جانے والی معلومات پر مبنی پر وفارمے میں خاص طور پر فاصلے کے ان مخصوص پیمانوں کے کالم شامل کئے گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں جیٹ طیاروں اور جنگی ہیلی کاپٹروں سے مدد لی جا رہی ہے تاہم اب تک کہیں بھی پاک فوج کی جانب سے ڈرون حملوں کا نہ تو استعمال کیا گیا ہے اور نہ ہی ڈرون طیاروں کی مدد طلب کی گئی جبکہ کراچی پولیس کی خفیہ ایجنسیاں ڈرون حملوں میں معاون ثابت ہونے والی تکنیکی معلومات حاصل کر رہی ہیں۔ جس نے معاملے کو مشکوک اور تشویشناک بنا دیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی پولیس کے مخصوص اہلکاروں کے ہمراہ مدارس پر جانے والے بعض افراد کے پاس ایک ایسی جدید ترین ڈیوائس موجود ہوتی ہے جس کا بٹن دبانے سے مذکورہ ڈیوائس میں مدرسے کا ارضیاتی ڈیٹا محفوظ ہوجاتا ہے۔ مرتب کئے جانے والے پروفارمے میں مذکورہ ڈیٹا موجود ہے۔ واضح رہے کہ کراچی میں چند بڑے مدارس کے علاوہ بیشتر مدارس انتہائی گنجان آبادیوں میں قائم ہیں جن پر کسی بھی ایسے حملے کی صورت میں بڑی تعداد میں عام بے گناہ افراد کے جانی و مالی نقصانات کا سانحہ رونما ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے پولیس کے اعلیٰ حکام کوئی بھی معقول موقف دینے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔

Tags: