دریائے سندھ بپھر گیا سیلاب سے مزید100 دیہات ڈوب گئے

August 4, 2015 4:35 pm0 commentsViews: 44

نوشہروفیروز سے ٹھٹھہ‘ بدین تک کچے کے علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقام پر جانے کیلئے وارننگ جاری کردی گئی
گڈو بیراج پر 7 لاکھ 45 ہزار 167 کیوسک کاریلہ پہنچ گیا‘ سکھر بیراج پربھی اونچے درجے کا سیلاب‘ پولیس اور رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ
کراچی ( مانیٹرنگ ڈیسک) دریائے سندھ بپھر گیا۔ گڈو اور سکھر بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، مزید100 دیہات ڈوب گئے مختلف شہروں میں فلڈ جاری کر دی گئی۔ نو شہرو فیروز سے ٹھٹھہ، بدین تک کچے کے علاقے سے لوگوں کو محفوظ مقام پر جانے کی وارننگ جاری کر دی ، گڈو بیراج پر7 لاکھ 45 ہزار 167 کیوسک کا ریلا پہنچ گیا۔ سکھر بیراج پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ گھوٹکی کے مزید50 اور شکار پور میں کچے کے علاقے مورو ماڑی میں150 سے زائد دیہاب زیر آب آگئے۔ پنو عاقل میں سیلاب متاثرین کے کیمپ میں 2 بچوں کو سانپ نے کاٹ لیا۔ ریسکیو ٹیموں نے تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کر دیا۔ فوج مختلف مقامات پر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ سگیوں کے علاقے کچے کے گائوں گل کلہوڑو سے سیلاب متاثرین کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے دوران ایک کشتی پانی کے تیز بہائو کے باعث الٹ گئی اور کشتی میں سوار2 خواتین صاحب خاتون، رحمت خاتون، وزیر علی سمیت5 افراد ڈوب گئے جنہیں علاقہ مکینوں نے ایک گھنٹے کی جدوجہد کے بعد بچا لیا۔ گڈو کے بعد سکھر بیراج پر انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال کے بعد سکھر، گھوٹکی، کشمور، خیر پور اضلاع کے مزید200 سے زائد دیہات زیر آب آگئے ہیں، ان دیہات میں پاک فوج اور دیگر ریسکیو اداروں کی جانب سے متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا کام جاری ہے۔ دوسری جانب دریائے سندھ میں کوٹری ڈائون اسٹریم پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جس کے باعث کچے کے علاقے تیزی سے زیر آب آتے جا رہے ہیں۔ حساس بندوں پر رینجرز اور پولیس کی نفری تعینات کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔

Tags: