پاکستانی خاتون نے برطانوی شہریت کیلئے بیٹے کو ناجائز قرار دیدیا

August 4, 2015 4:42 pm0 commentsViews: 30

انسانی حقوق کے برطانوی قانون کا فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستانی معاشرے کو پتھر کے دورکا ظاہر کیا
جعل سازی کے خلاف برطانوی محکمہ داخلہ سمیت متعلقہ اداروں کو آگاہ کردیا ہے، شوہر
کراچی( نیوز ڈیسک) 53 سالہ خاتون نے برطانوی شہریت کے لئے اپنے جائز بیٹے کو ناجائز اور شوہر کی پہلی بیوی کے تین بچوں کو جعل سازی کے ذریعے اپنا ظاہر کیا۔ سبرینہ حفیظ نے انسانی حقوق کے برطانوی قانون کا بھر پور فائدہ اٹھانے کیلئے لڑکی کی پیدائش پر پاکستانی معاشرے کی ذہنیت کو پتھر کے دور کا ظاہر کیا اور1998ء میں ہونے والی شادی کو1988ء میں ظاہر کیا۔ جبکہ 1982ء میں انتقال کر جانے والے اپنے سسر کو1990 ء تک زندہ بتایا۔ سبرینہ کے شوہر نے بیٹے کی حوالگی کے لئے برطانیہ کے ہوم ڈپارٹمنٹ میں درخواست دائر کر دی۔ تفصیلات کے مطابق ڈیفنس کی رہائشی 53 سالہ سبرینہ حفیظ کی شادی 14 جون1998ء کو عبدالعزیز تمی سے ہوئی وہ سیر و تفریح کے شوقین تھی لیکن اسی دوران2001ء میں اسے برطانیہ کی شہریت حاصل کرنے کا جنون سوار ہوگیا جس کا پہلی بار 2009ء میں انکشاف ہونے پر اس نے معافی مانگی اور پاکستان کو نہ چھوڑنے کا وعدہ کیا ۔ لیکن اس کے باوجود برطانیہ کی شہریت حاصل کرنے کے لئے کوششیں کرتی رہی، سبرینہ کے شوہر کا کہنا ہے کہ اگر قانونی طریقے سے وہ خود برطانیہ جاتی تو یہ اس کا حق ہوتا لیکن اس نے اپنے مقصد کے لئے میرے بیٹے آدم عزیز کو ایک ناجائز اولاد قرار دیا اور جعلی اسناد کے ذریعے اس نے میرے تین بچوں اسامہ، شفق اور حسن کو اپنی اولاد قرار دیا۔ سبرینہ کے شوہر نے ذرائع ابلاغ سے اپنے بیٹے آدم عزیز کی واپسی کے لئے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آدم عزیز میرا بیٹا ہے برطانیہ چاہے تو ڈی این اے ٹیسٹ کرا لے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس جعل سازی اور دھوکہ دہی کے خلاف برطانیہ کے محکمہ داخلہ اور ہائی کمشنر برطانیہ ( اسلام آباد ) سمیت تمام متعلقہ اداروں کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔

Tags: