میٹرک کے متنازعہ نتائج کیخلاف طلباء کی ہنگامہ آرائی پولیس کا لاٹھی چارج

August 4, 2015 4:52 pm0 commentsViews: 14

طلبہ و طالبات اور والدین روڈ پر کھڑی کی جانے والی عام رکاوٹیں عبور کرکے سیکریٹری اور چیئرمین کے آفس پہنچ گئے
مشتعل طلباء کی توڑ پھوڑ‘ میٹرک بورڈ نے ناقص کارکردگی پر خاموشی اختیارکرلی‘افسران سے بھی پوچھ گچھ نہیں کی گئی
کراچی( اسٹاف رپورٹر) میٹرک امتحانات کے متنازع نتائج کے خلاف مشتعل طلبہ و طالبات اور والدین نے پیر کو بھی بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کراچی میں شدید احتجاج کیا طلبہ و طالبات اور والدین نے بورڈ کے گیٹ پر کھڑی کی جانے والی تمام رکاوٹیں عبور کرکے سیکریٹری اور چیئر مین کے آفس پہنچ گئے۔ اس دوران پولیس نے طلبہ و طالبات اور والدین پر لاٹھی چارج بھی کیا جس سے طلبہ نے مشتعل ہو کر توڑ پھوڑ کی۔ تفصیلات کے مطابق میٹرک کے سالانہ امتحانات کے نتائج میں تقریباً 35 فیصد طلبہ و طالبات کے نتائج غائب ہیں جبکہ انتظامیہ صرف800 طلبہ کو غیر حاضر ظاہر کرکے معاملے کو دبانے کی کوشش کرر ہی ہے۔ ذرائع کے مطابق میٹرک بورڈ میں چند ہفتے قبل غیر قانونی طور پر کنٹریکٹ پر تعینات ہونے والے متنازع آئی ٹی افسر کی وجہ سے ہزاروں طلبہ کا مستقبل دائو پر لگ گیا ہے اور ہزاروں طلبہ کے نتائج تاحال جاری نہ ہونے کے حوالے سے آئی ٹی منیجر نے بورڈ کو مس بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کچھ اسکولوں نے پریکٹیکل کی کاپیاں جمع نہیں کرائی تھیں یہ وہ بچے آئے ہیں جبکہ حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے۔ ذرائع کے مطابق کل طلبہ میں سے کم سے کم35 فیصد کے نتائج ویب سائٹ اور گزٹ میں موجود نہیں ہیں۔ جس کے باعث30 جولائی کو نتائج کے اعلان کے بعد سے طلبہ سراپا احتجاج ہیں، میٹرک بورڈ انتظامیہ کی ناقص کارکردگی پر سندھ حکومت نے بھی خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اور اس حوالے سے سندھ حکومت نے بورڈ کے اعلیٰ افسران سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی اور مشکوک نتائج پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہیں ذرائع کے مطابق میٹرک کے سالانہ نتائج میں ہزاروں طلبہ کے نتائج جاری نہ ہونے میں بورڈ کے چند ملازمین و افسران اور ایجنٹ ملوث ہیں۔ ذرائع کے مطابق میٹرک بورڈ کراچی میں گزشتہ کئی برسوں سے یہ سلسلہ جاری ہے کہ ہر سال سالانہ امتحانات کے نتائج سے چند ہفتے قبل کنٹریکٹ پر غیر قانونی طریقے سے نتائج کی تیاری کیلئے آئی ٹی منیجر کو تعینات کر دیا جاتا ہے اور نتائج کے اجراء کے بعد سنگین غلطیوں اور نتائج میں ردو بدل پر صرف آئی ٹی منیجر کو ذمے دار قرار دے کر نوکری سے فارغ کر دیا جاتا ہے۔ اور اب نتائج سے چند دن قبل بورڈ انتظامیہ نے رضوان نامی شخص کو آئی ٹی منیجر تعینات کرکے انوکھے نتائج تیار کرکے جاری کر دیے جس میں تقریباً35 فیصد کے نتائج غائب ہیں۔ پیر کو میٹرک بورڈ میں اپنے نتائج معلوم کرنے اور احتجاج کرنے والے طلبہ اور ان کے والدین نے بتایا کہ بورڈ کے کرپٹ اہلکار اور ایجنٹ اچھے نمبروں میں پاس مارکس شیٹس کے عوض25 ہزار روپے مانگ رہے ہیں۔

Tags: