ودہولڈنگ ٹیکس کے خلاف احتجاج ہڑتال سے حکومت کو100 ارب کا نقصان ہوگا تاجر رہنمائوں کا دعویٰ

August 5, 2015 4:55 pm0 commentsViews: 17

کراچی میں تاجروں کے ایک گروپ نے آج ہڑتال کرنے کا اعلان کیا، کئی مارکیٹوں میں دکانیں بند ہیں، دوسرے گروپ نے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے
حکومتی خزانے کو ہونے والے نقصان کے ذمہ دار وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار ہوں گے، اگر ودہولڈنگ ٹیکس معطل کردیاجائے تو حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، انجمن تاجران پاکستان کے رہنمائوں کی پریس کانفرنس
بینک ٹرانزیکشن پر ٹیکس کا خاتمہ ہمارا اولین مطالبہ ہے، ٹیکس معطل کیے جانے تک حکومت سے ہر قسم کا رابطہ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں(عتیق میر)ہڑتال کا اعلان کرنے والے تاجر مارکیٹیں بند کرنے کے لیے سرگرم
کراچی( کامرس ڈیسک/ خبر ایجنسیاں) بینک ٹرانزکشن پر ود ہولڈنگ ٹیکس نافذ کئے جانے کے خلاف تاجروں کے ایک دھڑے کی اپیل پر آج کراچی کے مختلف علاقوں سمیت اسلام آباد، لاہور، فیصل آباد وغیرہ میں ہڑتال کی جا رہی ہے جبکہ تاجروں کے دوسرے گروپ نے ہڑتال سے لا تعلقی کا اظہار اور کاروبار جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے کراچی میں ہڑتال کا اعلان کرنے والا تاجروں کا گروپ آج مختلف علاقوں میں دکانیں بندکرانے کے لئے سر گرم نظر آرہا ہے۔ شہر کے مرکزی تجارتی علاقے بولٹن مارکیٹ، آرام باغ اور صدر وغیرہ میں کچھ دکانیں بند اور کچھ کھلی ہوئی ہیں دوسری طرف ہڑتال کا اعلان کرنے والا گروپ انجمن تاجران پاکستان کا کہنا ہے کہ خزانے کو100 ارب کا نقصان ہوگا، انجمن تاجران پاکستان کے صدر خالد پرویز اور سیکریٹری رزاق ببر نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ تاجر برادری ود ہولڈنگ ٹیکس کے حوالے سے اپنے موقف پر قائم ہے اور آج( 5 اگست کو ) بھر پور طاقت کا مظاہرہ کرے گی۔ حکومتی خزانے کو100 ارب کا نقصان ہوگا جس کے ذمہ دار وزیر خزانہ ہوں گے۔ تاجر رہنمائوں کا کہنا تھا کہ اگر وزیر خزانہ ود ہولڈنگ ٹیکس کو معطل کر یں تو مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے تاجر برادری سے بینکوں کے لین دین بند کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر تاجروں کے اکائونٹس فریز کرنے کا مسورہ تیار کر رہا ہے۔ ہم ٹیکس نیٹ کے خلاف نہیں حکومت کے طریقہ کار کے خلاف ہیں۔ دونوں تاجر رہنمائوں نے دعویٰ کیاکہ انہیں پورے ملک کی تاجر برادری کے علاوہ ٹرانسپورٹروں کی بھی حمایت حاصل ہے اگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے تو عہدے چھوڑ دیں گے۔ ادھر کراچی اور اسلام آباد کے تاجروں کے ایک گروپ نے ود ہولڈنگ ٹیکس کے خلاف ہونے والی ہڑتال میں حصہ نہ لینے کا اعلان کر دیا۔ اور آج دکانیں کھلی رکھنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملات حل نہ ہوئے تو دھرنے دیں گے اور ایوان کا گھیرائو بھی کیا جائے گا۔ تاہم آج کی ہڑتال کے حق میں نہیں ہیں، آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئر مین عتیق میر نے تاجر برادری سے اپیل کی ہے کہ آج ( بدھ کے روز) ملک گیر ہڑتال کو کامیابی سے ہمکنار کرکے اپنی بے مثال اتحاد اور یکجہتی کا ثبوت دیں۔ ہڑتال بینک ٹرانزیکشن ٹیکس کے خلاف ہماری احتجاجی تحریک کا مینڈیٹ ہوگی، انہوں نے اعلان کیا کہ ہڑتال کامیاب نہ ہو سکی تو بینک ٹرانزیکشن ٹیکس کے خلاف احتجاج سے دستبردار ہوجائوں گا انہوں نے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متنازعہ ٹیکس سے تاجر سراپا احتجاج، ملک میں انار کی کی صورتحال اور وزیر اعظم لا تعلق ہیں۔ موجودہ انتشار کا قابل عمل حل موجود ہے۔ ملکی مفاد میں ٹیکس کلچر کے فروغ کے لئے حکومت سے مکمل تعاون کے لئے تیار ہیں لیکن بینک ٹرانزیکشن پر ٹیکس کا خاتمہ ہمارا اولین مطالبہ ہے۔ ٹیکس معطل کئے جانے تک حکومت سے ہر قسم کا رابطہ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں سندھ تاجر اتحاد کے شیخ حبیب گروپ نے آج ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے اور کاروباری علاقوں میں دکانیں بند رکھنے کی اپیل کی ہے۔ جبکہ سندھ تاجر اتحاد کے دوسرے گروپ نے آج کی شٹر ڈائون ہڑتال موخر کر دی ہے۔ سندھ تاجر اتحاد کے چیئر مین جمیل پراچہ اور جنرل سیکریٹری اسماعیل لالپوریہ نے تاجروں سے خطاب کے دوران کہا کہ تاجروں کے وسیع مفاد میں آج کی ہڑتال کو موخر کرتے ہیں۔ تاہم بینک ٹرانزیکشن میں ود ہولڈنگ ٹیکس کیخلاف احتجاج جاری رہے گا، انہوں نے کہاکہ آج کی ہڑتال سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ تاجر برادری سے اپیل ہے کہ وہ اپنی دکانیں اور کاروبار معمول کے مطابق کھولیں۔ انہوں نے کہا کہ یکم اگست کو ہونے والی کامیاب شٹر ڈائون ہڑتال سے تاجر برادری کی یکجہتی ظاہر ہوئی۔ اور تاجروں نے بھر پور اتحاد کا مظاہرہ کیا ۔

Tags: