کے الیکٹرک کی نقالی پی ٹی سی ایل کے افسران بھی قیمتی آلات اور تاریں فروخت کرنے لگے

August 5, 2015 5:01 pm0 commentsViews: 50

منظور نظر ٹھیکیدار کو روزانہ کی بنیاد پر ایکسچینجوں میں لگے سامان سے ٹرک بھر کر فروخت کیا جارہا ہے
حکومت کی بے حسی کے باعث پی ٹی سی ایل کے 26 فیصد حصص خریدنے والی کمپنی ہی ادارے کی 100 فیصد مالک بن گئی
کراچی( نیوز ڈیسک) پی ٹی سی ایل انتظامیہ نے بھی کے الیکٹرک کے نقش قدم پر چلنا شروع کر دیا۔ ادارے کے ایکسچینجوں سے قیمتی آلات، پرزے، تانبا اور پیتل فروخت کرنا شروع کردیا اس ضمن میں ذرائع نے بتایا کہ کے الیکٹرک کی جانب سے کراچی میں تانبے کے تار25 ارب روپے سے زائد مالیت کے فروخت کئے گئے۔ جس کے بعد پی ٹی سی ایل انتظامیہ کے افسران نے بھی اس ادارے کے نقش قدم پر چلنا شروع کر دیا اور پی ٹی سی ایل کے ایکسچینج میں ٹی اینڈ ٹی دورے کے انتہائی قیمتی کروڑوں روپے مالیت کے لگے ہوئے کوایکسچینج اور قیمتی آلات جس میں تانبا، پیتل، برقی تاریں اور50 سال پرانا قیمتی سامان جو برٹش دور کا تھا، نکال کر فروخت کرنا شروع کر دیا ہے۔ جس کی تازہ مثال سینٹرل ایکسچینجوں کی ہے جہاں گزشتہ کئی ماہ سے ٹرک بھر بھر کے اس قیمتی ایکسچینج میں لگا ہوا سامان نکال کر نا معلوم کباڑیے کو فروخت کیا جا رہا ہے۔ جس میں ایچ آر ایڈمن انتظامیہ نے خاموشی سے کسی نا معلوم ٹھیکہ دار جس کو ادارے کی پشت پناہی بھی حاصل ہے کے ہاتھ کروڑوں روپے مالیت کا ایکسچینج میں لگاہوا قیام پاکستان کے وقت کا انتہائی کار آمد اور قیمتی سامان ٹرک بھر کے روزانہ کی بنیاد پر فروخت کرنا شروع کر دیا ہے۔ جس طرح کے الیکٹرک نے شہر بھر سے کے ای ایس سی دور کے تانبے اور پیتل کے تار فروخت کرکے قیمتی سرمایہ اپنی جیب میں ڈالا تھا اسی طرح اب پی ٹی سی ایل کنٹریکٹ انتظامیہ نے یہی روش اختیار کر لی ہے کہ ایکسچینج جس میں قیمتی اشیاء لگی ہوئی ہیں فروخت کرکے اس کی جگہ چھوٹے نئے ایکسچینج خرید کر لگائے جائیں گے۔ ذرائع کاکہنا ہے ادارے کے26 فیصد حصص خریدنے والی یو اے ای کی اتصالات کمپنی حکومت کی بے حسی کی وجہ سے100 فیصد کی مالک بن گئی ہے۔

Tags: