کراچی کی 288 مخدوش عمارتیں فوری سیل کرنے کا حکم

August 5, 2015 5:09 pm0 commentsViews: 23

درخواست پر سیکریٹری بلدیات‘ چیف سیکریٹری اور دیگر کو نوٹس جاری‘ مخدوش عمارتیں جمشید ٹائون اور دیگر ٹائون میں موجود ہیں
مکینوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے‘ عمارتیں خالی کرائی جائیں سندھ ہائیکورٹ میں درخواست گزار کا موقف
کراچی( اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے شہر میں مخدوش قرار دی گئی 288 عمارتوں کو فوری طورپر سیل کرکے منہدم کرنے سے متعلق دائر درخواست پر چیف سیکریٹری ، سیکریٹری بلدیات، سیکریٹری فنانس، قائم مقام ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، ایڈمنسٹریٹر کراچی سمیت دیگر مدعا علیہان کو 31 اگست کیلئے نوٹس جاری کر دئیے ہیں۔ قبل ازیں دائر درخواست میں سماجی کارکن راجا فیض الحسن نے موقف اختیار کیا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی شہر میں 288 عمارتوں کو مخدوش اور خطرناک قرار دے چکی ہے۔ جن کی حالت مخدوش اور خستہ حال ہے جن میں صدر ٹائون میں244، جمشید ٹائون میں 11 ، کیماڑی 3 ، ملیرمیں 2، شاہ فیصل میں2 لیاقت آباد میں18، گلشن اقبال ، کورنگی، نارتھ ناظم آباد اور سائٹ ٹائون میں ایک ایک، جبکہ بلدیہ ٹائون میں3 عمارتیں شامل ہیں۔ شہر میں بارشوں کے سبب عمارتوں کے گرنے سے انسانی جانوں کے ضیاع کے خدشہ کے پیش نظر مذکورہ عمارتوں کو خالی کرنے کے احکامات جاری کئے جا چکے ہیں۔ جبکہ29 جولائی کو ایک 5 منزلہ عمارت کھارا در میں منہدم ہوچکی ہے تاہم اس عمارت کے خالی ہونے کے سبب کوئی نقصان نہیں ہوا۔ درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ مذکورہ عمارتوں میں6 ہزار افراد رہائش اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اور متبادل رہائش نہ ہونے کے سبب ہزاروں جانوں کو خطرہ لاحق ہے۔

Tags: