پولیس افسران کو نشانہ بنانے کا منصوبہ دہشت گردوں نے ملک اسحاق کا بدلہ لینے کی تیاری کرلی

August 6, 2015 4:19 pm0 commentsViews: 242

کراچی میں کالعدم لشکر جھنگوی کے کارندے سرگرم ہوگئے،پولیس افسران کی فہرست مرتب کرکے انکی ریکی شروع کردی ہے، حساس اداروں کی رپورٹ
دہشت گرد پولیس افسران کے حوالے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر اور حساس شخصیات کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں، پولیس حکام نے خدشات سے متعلق مراسلہ ملنے کے بعد اپنے افسران کو نقل و حرکت محدود اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کردی
دہشت گردوں نے جن پولیس افسران پر حملوں کا منصوبہ بنایا ہے ان میں سی ٹی ڈی کے تمام انچارجز، سابق ایس ایس پی ملیر رائوانوار،4ایس ایچ اوز اور پولیس کے شعبہ خفیہ معلومات سیل کے دوافسران بھی شامل ہیں،ریکی مکمل کرنے کے بعد دہشت گرد ان افسران کو نشانہ بنانے کی کوشش کریں گے
کراچی( کرائم ڈیسک) کراچی میں دہشت گردوں نے پولیس افسران کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا لیا شہر میں کالعدم لشکر جھنگوی کے دہشت گرد سر گرم ہوگئے ہیں جنہوں نے پولیس افسران کی فہرست مرتب کرکے ان کی ریکی شروع کر دی ہے جس کے بعد حملے کئے جائیں گے۔ حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق دہشت گرد پولیس افسران کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر اور حساس تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں ذرائع کے مطابق حساس اداروں نے پولیس افسران پر خود کش اور پلانٹڈ ڈیوائس سے حملوں کا خدشہ ظاہر کر دیا۔ کالعدم لشکر جھنگوی نے اپنے رہنما ملک اسحاق کے قتل کا بدلہ لینے کیلئے پولیس افسران کی فہرست مرتب کر لی ہے۔ دوسری جانب پولیس حکام نے خدشات سے متعلق مراسلہ ملتے ہی افسران کو نقل و حرکت محدود کرنے اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا حکم جارئی کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حساس ادارے کی جانب سے صوبائی وزیر داخلہ اور پولیس حکام کو ایک مراسلہ ارسال کیا گیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ دہشت گرد پولیس کے اعلیٰ افسران پر خود کش اور پلانٹڈ ڈیوائس سے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ حساس اداروں نے اپنے مراسلے میں تحریر کیا ہے کہ کالعدم لشکر جھنگوی اپنے رہنما ملک اسحاق کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران کی ریکی میں مصروف ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے ایک فہرست بھی مرتب کی ہے۔ جس میں سی ٹی ڈی کے تمام انچارجز، سابق ایس ایس پی ملیر رائو انوار، 4 ایس ایچ او اور شعبہ خفیہ معلومات سیل کے2 افسران کے نام شامل ہیں اور ریکی مکمل ہونے کے بعد دہشت گرد ان افسران کو نشانہ بنانے کی کوشش کریں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ مراسلہ موصول ہوتے ہی پولیس کے اعلیٰ حکام نے تمام افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی نقل و حرکت محدودکرنے کے ساتھ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دیں جبکہ ایس ایچ او اپنے اپنے علاقوں میں اسنیپ چیکنگ کو معمول بنانے کے ساتھ علاقے میں ہونے والی نقل و حرکت پر کڑی نگاہ رکھیں۔ جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر حساس تنصیبات کی سیکورٹی سخت کرکے غیر متعلقہ افراد کا داخلہ بند کر دیا گیاہے۔ جبکہ شہر کی مضافاتی آبادیوں میں روپوش کالعدم تنظیموں کے دہشت گردوں کی گرفتاری کے لئے خفیہ اداروں کو بھی فعال کر دیا گیا ہے۔

Tags: