جعلی دستاویزات پر400 ارب روپے کی زمین کی فروخت کی تحقیقات

August 6, 2015 5:10 pm0 commentsViews: 35

نیب نے530 ایکٹر سرکاری اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور فروخت کی تحقیقات شروع کر دی
سرکاری زمین فروخت کرکے سرکاری خزانے میں ایک روپیہ بھی جمع نہیں کر ایا گیا
کراچی( اسٹاف رپورٹر) نیب سندھ نے چیئرمین نیب کی منظوری کے بعد جعلی دستاویزات پر400 ارب روپے مالیت کی530 ایکڑ سرکاری اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور فروخت کی تحقیقات کا آغاز کردیا‘ ذرائع کے مطابق مذکورہ اسکینڈل کا انکشاف مختار کار کورنگی کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر کو لکھے گئے خط کے ذریعے ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ20 ستمبر1963 کے زبانی سودے پر محمد ابراہیم کے نام پر اس اراضی کو درج کیا گیا تاہم اس اراضی کا ریکارڈ اور زبانی بیان ریونیو بورڈ کے کراچی ڈویژن کے دفتر میں موجود ہی نہیں‘ ابراہیم نامی شخص کے انتقال کے بعد 2004 ء میں مبینہ فوتی کھاتے میں تبدیلیوں کیساتھ مرحوم کے ورثاء کے نام پر انٹری نمبر 368 دیہہ سب ڈویژن کورنگی کے ریکارڈ میں 530 ایکڑ متبادل اراضی کا اندراج کردیا گیا‘ بورڈ آف ریونیو سندھ کے متعلقہ اہلکاروں کی جانب سے پہلے زمین کی فروخت کا اجازت نامہ جاری کرنے اور بعد ازاںاجازت نامہ واپس لے کر لینڈ مافیا کا بھر پور ساتھ دیا گیا‘ دوسری جانب حیرت انگیز طور پر مذکورہ اراضی کی لیز اور فروخت کے حوالے سے سرکاری خزانے میں ایک روپیہ بھی جمع نہیں کرایا گیا‘ مذکورہ اراضی کا فوتی کھاتہ ایک سابق صوبائی وزیر کی جانب سے اپنے ملازم کے نام پر بنوانے کے بعد اراضی متعلقہ اہلکاروں کی ملی بھگت سے فروخت کردی گئی۔

Tags: