شہر میں غیر قانونی بچت بازاروں سے بلدیہ عظمیٰ کو کروڑوںکا نقصان

August 6, 2015 5:15 pm0 commentsViews: 22

سڑکوں ‘ میدانوں اور پارکوں پر قائم غیر قانونی بچت بازاروں کی تعداد 500 سے زائد ہے‘ افسران بھاری نذرانے وصول کررہے ہیں
غیر قانونی بچت بازاروں کی آمدنی کا 30 فیصد محکمے کے افسران اور 20 فیصد ضلعی انتظامیہ کو دیا جاتا ہے
کراچی(اسٹاف رپورٹر) شہر قائد میں غیر قانونی بچت بازار مافیا کا راج،بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ ای اینڈ آئی پی کے ڈائریکٹر بچت بازار ڈپٹی ڈائریکٹرز اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور غیر قانونی بچت بازار آرگنائزرز کی ملی بھگت سے شہر کے میدان پارکس سروس روڈز کے ساتھ ساتھ مرکزی سڑکوں پر سینکڑوں کی تعداد میں غیر قانونی بچت بازار قائم،شہر میں قائم غیر قانونی بچت بازاروں کی تعداد 500سے بھی تجاوز کر گئی تفصیلات کے مطابق محکمہ ای اینڈ آئی پی کے ڈائریکٹر ڈپٹی ڈائریکٹرز نے مبینہ طور پر بھاری نذرانوں کے عوض شہر کو قانونی اور غیر قانونی بچت بازاروں کا جنگل بنادیا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف شہر میں روزآنہ کی بنیاد پر گندگی میں کئی گنااضافہ ہو رہا ہے بلکہ شہر کا انفرا اسٹرکچر بھیتباہ ہو رہا ہے جبکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کو اپنے ہی افسران کے ہاتھوں کروڑوں روپے کا نقصان بھی ہو رہا ہے ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر بچت بازار اور ان کے ماتحت افسران نے بچت بازار مافیا کے ساتھ بھاری نذرانوں کے عوض ملی بھگت کر رکھی ہے جس کے باعث شہر میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی بچت بازار لگائے جارہے ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ ان غیر قانونی بازاروں سے حاصل ہونے والی آمدانی میں سے مبینہ طور پر 30فیصد حصہ روزآنہ کی بنیاد پر محکمہ کے افسران کودیا جاتا ہے 20فیصدحصہ مبینہ طور پر ضلعی انتظامیہ کو جاتا ہے جبکہ ڈی ایم سیز کے افسران بھی بازاروں سے سینٹیشن ٹیکس کے نام پر بھاری رقم وصول کر رہے ہیں دوسری جانب ان بچت بازاروں کے لئے کے ایم سی کی ہزاروں گز زمین فی بازار استعمال ہونے کے باوجود محکمے کے افسران آرگنائزرز سے کوئی ٹیکس نہیں وصول کرتے جس کے باعث بلدیہ عظمیٰ کراچی کو روزآنہ لاکھوں روپے کے ریونیو کا نقصان پہنچ رہا ہے تو دوسری طرف محکمہ کے افسران کے بینک بیلنس میں تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔

Tags: