متحدہ کے اہم رہنما روپوش رابطہ کمیٹی کے ارکان وزارتوں کے مزے لوٹ کر بیرون ملک چلے گئے، الطاف حسین

August 7, 2015 4:58 pm0 commentsViews: 34

ایم کیو ایم کیخلاف آپریشن شروع ہونے کے بعد رہنمائوں اور کارکنوں کی بڑی تعداد منظر سے غائب ہوگئی ہے
حیدر عباس رضوی، فیصل سبزواری، رکن صوبائی اسمبلی عدنان انور، ڈاکٹر صغیر، کامران اختر، شیخ صلاح الدین، خالد بن ولایت اور اشفاق منگی وغیرہ بیرون ملک چلے گئے ہیں
اسلام آبادمیں ایک اور ایم کیو ایم بنانے کی منصوبہ بندی ہورہی ہے، ایسے نام جن کا سن کر لوگ تعجب کریں گے وہ دشمنوں نے خرید لیے ہیں وہ اپنے ضمیر کا سودا کر گئے ہیں، قائد متحدہ قومی موومنٹ
کراچی( نیوز ڈیسک) متحدہ قومی موومنٹ اس وقت اپنے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے۔ رینجرز کی جانب سے پے در پے چھاپوں اور کارکنوں و رہنمائوں کی گرفتاریوں کے بعد ایم کیو ایم کے کارکنوں کی بڑی تعداد کے ساتھ بعض منتخب نمائندے اور رابطہ کمیٹی کے کچھ رہنما بھی روپوش ہوگئے ہیں۔ ایم کیو ایم کے کئی اہم رہنما جن میں حیدر عباس رضوی، فیصل سبزواری، رکن صوبائی اسمبلی عدنان انور، ڈاکٹر صغیر احمد، منتخب نمائندوں میں کامران اختر، شیخ صلاح الدین، خالد بن ولایت، اشفاق منگی پچھلے کچھ دنوں سے منظر عام سے غائب ہیں۔ ایم کیو ایم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ رہنما نجی کاموں کے سلسلے میں بیرون ملک ہیں اور ایم کیو ایم کے ساتھ تنظیمی کاموں کے حوالے سے رابطے میں ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض رہنمائوں کو حفظ ماتقدم کے طور پر تنظیمی کاموں سے دور رکھا گیا ہے۔ تاہم تمام شخصیات پارٹی سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ اور احکامات ملتے ہی منظر عام پر آجائیں گے۔ ذرائع کے مطابق الطاف حسین اب نئی قیادت کو آگے لانا چاہتے ہیں جس کیلئے نام طلب کئے گئے ہیں۔

کراچی( اسٹاف رپورٹر) ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ میرے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ اسلام آباد میں ایک اور ایم کیو ایم بنانے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ ایسے نام جن کا سن کر تعجب کریں گے۔ وہ دشمنوں نے خرید لئے۔ وہ اپنے ضمیر کا سودا کر گئے، رابطہ کمیٹی کے ارکان وزارتوں کے مزے لوٹ کر بیرون ملک فرار ہوگئے اور مزے کر رہے ہیں خواہ سب بڑے بڑے ایم کیو ایم کے لوگ بک جائیں لیکن شہداء، لا پتہ ساتھیوں کے لواحقین اور اہلخانہ، اسیروں کے اہل خانہ میرا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لا پتہ اور اسیر کارکنوں کی بازیابی کیلئے ایک ہفتے میں تبت سینٹر پر ایک جلوس نکالا جائے گا۔ جو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج ہوگا۔ رابطہ کمیٹی کو ہدایت کرتا ہوں کہ شہداء، اسیر اور لا پتہ کارکنان کا ڈیٹا جمع کریں اور ایک کتا بچہ بنا کر جہاز بھر کے اقوام متحدہ بھیجیں اور میں خود اقوام متحدہ کے حکام کو دکھائوں گا۔ سرائیکیوں اور پٹھانوں کے ساتھ کیا کیا ظلم ہو رہا ہے۔ ایک دن تو دنیا کا ضمیر جاگے گا۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری نے جرنیلوں کے حوالے سے بات کی مگر اس کو نہیں پکڑٖا گیا۔ اور میرا پیچھا نہیں چھوڑا جا رہا لیکن پھر بھی اقوام متحدہ جائوں گا۔ جمعرات کو لال قلعہ گرائونڈ میں شہداء لاپتہ اور اسیر کارکنان کے اہلخانہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے کہا کہ کارکن سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کرنے کیلئے ٹرین میں اسلام آباد جانے کی تیاری کریں رینجرز نے قاتلوں اور مجرموں کی لسٹ بھجوا دی ہے لیکن ہمارے کارکنوں کے قاتلوں اور غائب کرنیوالوں کو سامنے نہیں لایا جاتا، کارکنوں ہمدردوں سے اپیل کر رہا ہوں ایک احسان میرے اوپر کرد و، تم نے میرا ساتھ دیا، بچوں کو قربان کیا برائے مہربانی تمہیں جو اچھا لگے اس کو اپنا قائد بنا لو۔ انہوں نے کہا کہ شہداء اور اسیروں کے پوسٹر چھپوا نے کیلئے میرے پاس پیسے نہیں ہیں کارکن چندہ جمع کریں تا کہ پوسٹر چھپوائے جاسکیں۔

Tags: