کتاب کلچر کو فروغ دینے کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، شعیب صدیقی

August 7, 2015 5:18 pm0 commentsViews: 49

یونس ہمدم کی شاعری میں سچائی ہے، آرٹس کونسل میں تقریب سے عبدالحسیب، آغا مسعود و دیگر شخصیات کا خطاب
کراچی( اسٹاف رپورٹر) کمشنر و ایڈمنسٹریٹر کراچی شعیب احمد صدیقی نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے ادیب اور شاعر کردار ادا کرتے ہیں۔ کتاب کلچر کو فروغ دینے کیلئے ہم سب کو مل کر کام کرنا چاہئے۔ وہ آرٹس کونسل کراچی میں نیو جرسی امریکہ سے آئے ہوئے ممتاز شاعر اور کالم نگار یونس ہمدم کے نئے شاعری مجموعے اجنبی آشنا کی تقریب اجراء کے موقع پر منعقدہ تقریب سے بحیثیت مہان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ تقریب کا اہتمام سٹی تھنکر فورم کراچی اور آرٹس کونسل کراچی کے اشتراک سے کیا گیا تھا۔ اس موقع پر میٹرو پولیٹن کمشنر سمیع الدین صدیقی سمیت ممتاز شخصیات نے شرکت کی، تقریب سے صدر سینیٹر عبدالحسیب خان ، دوست محمد فیضی، ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، آغا مسعود حسین ، پروفیسر انوار احمد زئی، صابر علی، اطہر جاوید صوفی، ڈاکٹر اقبال حمید، سید اقبال، ایس ایم نعیم کاظمی اور صاحب تقریب یونس ہمدم نے بھی خطاب کیا۔ تقریب کے صدر سینیٹر عبدالحسیب خان نے کہا کہ یونس ہمدم کی شاعری میں سچائی ہے اور ان کا موضوع زندگی ہے۔ امریکہ میں رہنے کے باوجود یونس ہمدم نے وطن کی محبت اور تڑپ میں قلم سنبھالا اور نئی کتاب لے آئے۔ دوست محمد فیضی نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت تہذیبی بحران ہے اور اچھائی برائی کی تمیز ختم ہوگئی ہے۔ اس بحران کو ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان حل نہیں کریں گے بلکہ اسے ادیب، شاعر، فلسفی، معلم اور مفکر حل کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ ایک اچھے لکھاری کا قارئین کے ساتھ لا زوال رشتہ ہوتا ہے۔ یونس ہمدم کی کتاب پڑھ کر پہلا احساس یہ ہوا کہ یہ ہر لمحہ اپنے وطن سے جڑے رہتے ہیں۔ آغا مسعود حسین نے کہا کہ یونس ہمدم نہ صرف یہ کہ ایک عمدہ فلمی شاعر رہے ہیں بلکہ ان کا قد ادب میں بھی بڑا ہے ، اردو زبان کو فلمی شعراء نے بہت اچھے الفاظ دئیے ہیں۔ یونس ہمدم نے تقریب کے انعقاد پر آرٹس کونسل کراچی اور سٹی تھنکر فورم کا شکریہ ادا کیا ، انہوں نے کہا کہ اجنبی آشنا مجموعی طور پر میری پانچویں کتاب اور چوتھا شعری مجموعہ ہے جبکہ ایک کتاب ’’بات ہے برداشت کی‘‘ میرے اخباری کالموں کا مجموعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات کا بھی اطمینان ہے کہ میں فلمی دنیا سے علم کی دنیا کی جانب لوٹاہوں جبکہ اکثر شاعر علم سے فلم کی طرف گئے۔ اس موقع پر یونس ہمدم نے اپنا منتخب کلام بھی سنایا جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا۔

Tags: