کراچی کے تمام سرائے خانوں اور ہوٹلوں کا ریکارڈ مرتب کرنے کا حکم

August 8, 2015 4:21 pm0 commentsViews: 24

نیشنل ایکشن پلان کے تحت تمام غیر رجسٹرڈ ہوٹلوں اور سرائے خانوں کا ریکارڈ مرتب کرنے کیلئے اسپیشل برانچ کو ٹاسک سونپ دیا گیا
کچی آبادیوں سمیت کینٹ اسٹیشن‘ سہراب گوٹھ‘ پٹیل پاڑہ اور لیمارکیٹ کے سرائے خانوں میں مشکوک افراد کی آمد و رفت عام ہے
کراچی( کرائم ڈیسک) نیشنل ایکشن پلان کے تحت شہر میں موجود غیر رجسٹرڈ سرائے خانوں اور ہوٹلوں کے ریکارڈ کو مرتب کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں اور اسپیشل برانچ کو ٹاسک دے دیا گیا، اس سلسلے میں سندھ پولیس کے انتہائی اہم ذرائع کا کہنا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت پہلے شہر بھر میں قائم رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ مدارس کا ڈیٹا مرتب کیا گیا تھا۔ اس کے لئے جیو ٹیکنگ بھی کی گئی تھی۔ اب شہر میں موجود ایک اہم مسئلہ غیر رجسٹرڈ ہوٹل اور سرائے خانے ہیں کیوں کہ جو ہوٹل رجسٹرڈ ہیں ان کے پاس تمام چیزوں کا ریکارڈ ہوتا ہے۔ تاہم ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں کہ کوئی شخص بس میں آتا ہے بس اڈے سے نکل کر کسی کچی آبادی میں جاتا ہے اور وہاں قائم سرائے خانے میں ٹھہرتا ہے۔ بعد ازاں وہ کہیں اور نکل جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں کینٹ اسٹیشن، سہراب گوٹھ، بنارس، قصبہ کالونی، لی مارکیٹ، بلدیہ، پٹیل پاڑہ، قیوم آباد، قائد آباد، سٹی اسٹیشن ، صدر سمیت دیگر میں اس طرح کے سرائے خانے موجود ہیں جہاں چند گھنٹوں کے لئے بھی لوگ قیام کرتے ہیں اور اس کے بعد وہ کسی اور مقام پر نکل جاتے ہیں۔ اسپیشل برانچ ڈویژن کی سطح پر اس کے ریکارڈ کو از سر نو مرتب کرکے اس کا ریکارڈ اعلیٰ حکام کو ارسال کرے گی۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سرائے خانوں کی تعداد بہت ہے اور ہدایت دی گئی ہے کہ اس کام کو جتنی جلدی ہو سکے مکمل کیا جائے۔

Tags: