اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث بااثر شخصیات کے گرد گھیرا تنگ

August 8, 2015 4:27 pm0 commentsViews: 39

سیاسی وابستگی رکھنے والے سرکاری محکموں اور عدلیہ میں تعینات افسران کیخلاف کارروائی کیلئے بھی تیاریاں شروع کردی گئیں
اینٹی کرپشن نے محکمہ ریونیو کے 19 ورکس اینڈ سروسز کے 19، محکمہ آبپاشی کے 17، محکمہ صحت کے 13 اور محکمہ زراعت کے 12ملازمین کے خلاف مقدمات درج کرلیے جن کے خلاف جلد کارروائی شروع کی جائے گی
محکمہ اینٹی کرپشن کے 40 بدعنوان افسران کے خلاف بھی مقدمات درج کیے گئے ہیں، کرپٹ عناصر ، ان کے سہولت کاروں اور سرپرستی کرنے والی شخصیات کو قانون کے شکنجے میں لانے کے لیے حکمت عملی بھی تیاری کرلی گئی
حساس اداروں نے سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر بھرتی ہونے والے افسران اور اہلکاروں کی مانیٹرنگ شروع کردی، عدلیہ میں سیاسی بنیادوں پر تعینات افسران جنہوں نے دفاتر میں پارٹی پرچم اور رہنمائوں کی تصاویر لگا رکھی ہیں ان کے خلاف بھرپور ایکشن ہوگا
کراچی( کرائم ڈیسک/نیوز ایجنسیاں) کراچی سمیت سندھ بھر میں اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث بااثر شخصیات کے گرد گھیرا تنگ کردیا گیا جلد بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا امکان جبکہ مختلف سرکاری محکموں اور عدلیہ میں سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر بھرتی ہونیوالے افسران کیخلاف بھی تحقیقات شروع کردی گئی باخبر ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی ہدایت پر سندھ میں اربوں روپے کی کرپشن کرنے والی اہم سیاسی و بااثر شخصیات کی گرفتاری کیلئے ان کے گرد گھیرا تنگ کردیا گیا ہے‘ ذرائع کے مطابق محکمہ اینٹی کرپشن نے اربوں روپے کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے کے لئے216مقدمات درج کرلئے ہیں‘ مقدمات میں اہم سیاسی شخصیات کے فرنٹ مین ‘رشتہ دار اور محکمہ اینٹی کرپشن کے اعلیٰ افسران کیخلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں‘ ذرئع کے مطابق محکمہ اینٹی کرپشن کی جانب سے درج کئے گئے مقدمات میں محکمہ ریونیو سے19 ملازمین‘ محکمہ ورکس اینڈ سروسز کے 19 ملازمین‘ محکمہ آبپاشی کے17 ملازمین‘ محکمہ صحت کے13 ملازمین ‘محکمہ زراعت کے12 ملازمین کیخلاف کارروائی شروع کی جارہی ہے‘ ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن کی جانب سے کرپٹ عناصر کو سہولیات فراہم کرنے اور ان کی کرپشن پر آنکھیں بند کرنے والے محکمہ اینٹی کرپشن کے بد عنوان افسران کیخلاف بھی40 سے زائد مقدمات درج کرلئے گئے ہیں تاکہ کرپٹ عناصر اور ان کے سہولت کاروں کیخلاف یکساں کارروائی کرکے کرپشن کی عفریت پر قابو پایا جاسکے‘ دوسری طرف سیاسی وابستگی کے حامل سرکاری محکموں‘ عدلیہ میں کام کرنے والے افسران و دیگر گریڈ کے مساوی کام کرنیوالے ملازمین کیخلاف کارروائی کا امکان ہے‘ ذرائع نے بتایا کہ عدلیہ سمیت دیگر وفاقی صوبائی اداروں میں سیاسی وابستگی کی بنیاد پر بھرتی ہونیوالے افسران و اہلکاروں کی حساس اداروں نے مانیٹرنگ شروع کردی جبکہ عدالتوں میں سیاسی بنیادوں پر تعینات افسران جنہوں نے سرکاری دفاتر کو اپنی پارٹیوں کے پرچم اور اپنے رہنمائوں کی تصاویر لگا کر سیاسی بنادیا ہے کیخلافشہریوں کی طرف سے سینکڑوں شکایات کے بعد کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا‘ ایک شہری عبدالعزیز ملاح نے بھی چیف جسٹس سپریم کورٹ‘ نیب‘ اینٹی کرپشن وفاقی اور صوبائی حکومت سمیت حساس اداروں کو درخواست ارسال کی ہے کہ اے اے جی قاضی بشیر صوبائی حکومت کی سفارش پر تعینات کئے گئے۔

Tags: