اولڈ کلفٹن میں جعلی لیز پر تعمیر کردہ بنگلہ سیل

August 8, 2015 4:43 pm0 commentsViews: 19

لینڈ مافیا نے بلدیہ عظمیٰ کی ملکیت ایک ارب روپے کی زمین پر بنگلہ تعمیر کر لیا تھا
ایڈمنسٹریٹر کی ہدایت پر جمعہ کی شام بلدیہ عظمیٰ کے انسداد تجاوزات سیل نے کارروائی کرکے بنگلے کو سیل کر دیا
کراچی( اسٹاف رپورٹر) ایڈمنسٹریٹر کراچی شعیب احمد صدیقی کی ہدایت پر اولڈ کلفٹن میں تقریباً ایک ارب روپے مالیت کا 4000 گز کا قطعہ اراضی پر جعلی لیز بنا کر تعمیر کیا جانے والا بنگلہ سیل کرنے کے بعد بلدیہ عظمیٰ کراچی کی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایڈمنسٹریٹر کراچی شعیب احمد صدیقی کو اطلاع ملی تھی کہ اولڈ کلفٹن مہتہ پیلس کے سامنے بنگلہ نمبر 60/A جس کا رقبہ تقریباً4000 گز سے زیادہ ہے بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ملکیت ہے اس قطعہ اراضی پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کی نرسری قائم تھی تاہم لینڈ مافیا نے غیر قانونی طور پر اس کی لیز حاصل کرکے نرسری کو ختم کر دیا اور اس قطعہ اراضی پر جس کی مالیت تقریباً ایک ارب روپے ہے بنگلہ تعمیر کر لیا۔ ایڈمنسٹریٹر کراچی کی ہدایت پر جمعہ کی شام بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ڈائریکٹر انسداد تجاوزات مظہر خان اور ڈپٹی کمشنر سائوتھ سلیم راجپوت کی موجودگی میں بنگلہ کو سیل کرکے قبضہ میں لے لیا۔ اس وقت بنگلہ خالی تھا جس کی وجہ سے کوئی مزاحمت نہیں ہوئی۔ ایڈمنسٹریٹر کراچی شعیب احمد صدیقی نے فوری طور پر انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اس میں بلدیہ عظمیٰ کراچی یا کسی دوسرے سرکاری ادارے کے اہلکار ملوث ہیں۔ اربوں روپے کی قطعہ اراضی پر قبضہ کرانے میں جس ادارے کے بھی اہلکار ملوث پائے گئے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

Tags: