سندھ توڑنے کی باتیں کرنے والوں کے عزائم ناکام ہونگے، ارکان سندھ اسمبلی

August 8, 2015 5:22 pm0 commentsViews: 24

پاکستان کے قیام کے بعد سندھ کے لوگوں نے ہندوستان سے آنے والوں کو اپنا سب کچھ دیا تھا، مہتاب راشدی
اللہ ملک دشمنوں کو نیست و نابود کر دے، شفیع جاموٹ، نصرت سحر عباسی و دیگر رہنمائوں کا ردعمل
اگست آزادی کا مہینہ ہے، پاکستان کیلئے لوگوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں، عبدالرئوف صدیقی
کراچی( اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی کے اجلاس میں جمعہ کو فاتحہ خوانی کے دوران متعدد ارکان نے کہا کہ جو لوگ ملک اور سندھ کو توڑنے کی بات کررہے ہیں‘ اللہ تعالیٰ انہیں نیست و نابود کرے‘ پیپلز پارٹی کی خیر النساء مغل نے کہا کہ دعا کی جائے کہ ملک اور سندھ توڑنے کی باتیں کرنے والوں کے عزائم ناکام ہوں۔ مسلم لیگ (فنکشنل) کی رکن مہتاب اکبر راشدی نے کہا کہ پاکستان کے قیام بعد سندھ کے لوگوں نے ہندوستان سے آنیوالے لوگوں کیلئے اپنا سب کچھ دے دیا۔ جو لوگ آج سندھ کو توڑنے کی باتیں کررہے ہیں۔ ان کیلئے دعا کی جائے کہ اللہ انہیں ہدایت دے۔ مسلم لیگ (ن) کے حاجی شفیع محمد جاموٹ نے کہا کہ ملک دشمنوں کو اللہ نیست و نابود کرے۔ مسلم لیگ فنکشنل کی نصرت سحر عباسی نے کہا کہ ملک کیلئے جو لوگ غلط نیت رکھتے ہیں‘ اللہ انہیں نیست و نابود کرے۔ مسلم لیگ (ن) کی سورتھ تھیبو نے کہا کہ قیام پاکستان کیلئے سندھ کے لوگوں نے بڑی قربانیاں دیں۔انہوں نے ہندوستان سے آنیوالے بھائیون کو اپنے وسائل اور اپنے شہر دے دیئے لیکن انہیں اس کے بدلے میں لاشیں ملیں اور ہر گوٹھ میں لاشیں پہنچیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے محمد عبدالرئوف صدیقی نے کہا کہ یہ اگست کا مہینہ آزادی کا مہینہ ہے۔ پاکستان کیلئے لوگوں نے بڑی قربانیاں دیں۔ پاکستان کو بچانے کیلئے ہم آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کیلئے دعا گو ہیں۔

الطاف حسین کیخلاف فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جائے‘ سندھ اسمبلی میں قرار داد
کثرت رائے سے منظور قرار داد تین جماعتوں کے رہنمائوں نے پیش کی‘ پیپلز پارٹی کی حمایت‘ ایم کیو ایم کے ارکان کا شدید احتجاج
وفاقی حکومت الطاف حسین کیخلاف کارروائی کرے‘ ایوان میں شورو شرابہ‘ بیرونی قوتوں کو مداخلت کی دعوت قابل برداشت نہیں‘ نثار کھوڑو
کراچی( اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی نے جمعہ کو ایک قرار داد کثرت رائے سے منظور کرلی‘ جس میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ الطاف حسین کیخلاف قانونی کارروائی کرے اور ان کیخلاف مقدمہ فوجی عدالتوں میں چلایا جائے۔ یہ قرار داد پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) کے پارلیمانی لیڈر نند کمار‘ پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر ثمر علی خان اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر حاجی شفیع جاموٹ نے پیش کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اس قرار داد کی حمایت کی۔ پیپلز پارٹی کے رکن ڈاکٹر سہراب سرکی کے بھی اس قرار داد پر دستخط موجود تھے۔ ایم کیو ایم کے ارکان نے اس قرار داد پر سخت احتجاج کیا۔ وہ نو نو‘ نعرہ الطاف جئے الطاف اور ہم نہ ہوں ہمارے بعد الطاف الطاف کے نعرے لگارہے تھے۔ ایم کیو ایم کے ارکان کی نعرے بازی اور شور شرابے کے دوران نند کمار‘ ثمر علی خان اور حاجی شفیع جاموٹ نے قرار داد پڑھ کر پیش کی۔ شور شرابے میں ہی قرار داد پر رائے شماری ہوئی اور ایوان نے قرار داد کثرت رائے سے منظور کرلی۔ قرار داد میں کہا گیا کہ یہ ایوان الطاف حسین کی ان بیانات کی مذمت کرتا ہے جن میں انہوں نے پاکستان کے داخلی معاملات میں بیرونی اداروں اور غیر ممالک کی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ’’یہ ایوان حکومت سندھ سے سفارش کرتاہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رابطہ کرے اور اس سے کہے کہ الطاف حسین کے انتہائی قابل اعتراض بیانات کا وفاقی حکومت نوٹس لے اور ان کیخلاف قانونی کارروائی کرے‘‘ قرار داد کی منظوری کے بعد اسپیکر نے اجلاس پیر کی صبح تک ملتوی کردیا۔ سینئر وزیر اطلاعات اور آبپاشی نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ سندھ میں رہنے والے سب سندھی ہیں۔ اب کوئی مہاجر نہیں سندھ میں رہنے والا اگر کوئی بیرونی قوتوں کو سندھ میں مداخلت کی دعوت دے تو یہ قابل برداشت نہیں ہے۔

متحدہ ،زرداری اور عمران کیخلاف سندھ اسمبلی میں قرار داد پیش کریگی
قرار داد کے ساتھ اخباری تراشے اور دیگر مواد سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرادیا گیا‘ اداروں کی تضحیک پر زرداری کیخلاف کارروائی کی جائے
فوج کیخلاف عمران خان کے بیانات بھی جمع کرائے گئے‘ پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کی پیٹھ پر چھرا گھونپا ہے پیر کو فلور پر جواب دینگے‘ سردار احمد
کراچی( اسٹاف رپورٹر) ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کیخلاف سندھ اسمبلی میں مذمتی قرار داد کے جواب میں ایم کیو ایم نے بھی پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کیخلاف قرار داد سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرادی ہے‘ تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم کے رہنما سید سردار احمد نے جمعہ کو پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کیخلاف قرار داد سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرادی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے قومی سلامتی کے اداروں کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات کرکے قومی اداروں کی تضحیک کی تھی لہٰذا ان کیخلاف کارروائی کی جائے‘ آصف علی زرداری نے ماضی میں متعدد بار پاکستان آرمی کیخلاف اپنے بیانات میں ہرزہ سرائی کی ہے۔ یہ سب ایم کیو ایم کے قائد کے بیان سے قبل ہوا لیکن نہ تو قومی اسمبلی اور نہ ہی صوبائی اسمبلی میں کوئی قرار داد لائی گئی‘ عمران خان اور آصف زرداری کے بیانات آن ریکارڈ ہیں لیکن ایم کیو ایم کے قائد کے ساتھ تعصب کا رویہ رکھا گیا اور الطاف حسین کیخلاف قرار داد لائی گئی۔ ایم کیو ایم کے ارکان نے قرار داد کے ساتھ اخباری تراشے اور دیگر مواد بھی سندھ اسمبلی میں جمع کرایا ‘ قرار داد میں عمران خان کے فوج کیخلاف بیانات جمع کرائے گئے ہیں۔ اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ پیپلز پارٹی کو پیر کے روز اسمبلی کے فلور پر جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایجنڈے کا آخری آئٹم باقی تھا اور فنکشنل لیگ کو موقع دے دیا گیا‘ اسپیکر صاحب نے ہمیں نہیں سنا بلکہ ہمیں قرار داد کی کاپی فراہم نہیں کی گئی۔ یکطرفہ فیصلہ کرکے اجلاس کو ملتوی کردیا گیا‘ ہم اس نا انصافی کیخلاف احتجاج کریں گے۔ ایم کیو ایم کے رہنما محمد حسین نے کہا کہ تعصب پر مبنی سیاست کی جارہی ہے‘ الطاف حسین کیخلاف پورے ملک میں نفرتیں پھیلائی جارہی ہیں۔ تمام پارٹیوں نے طے کیا تھا کہ کسی کیخلاف کوئی بیان یا قرار داد نہیں لائی جائیگی‘ لیکن اب ایم کیو ایم بھی بھر پور قرار دادیں لائے گی۔

 

Tags: