پولیس افسران نے خود اہلکاروں کو قتل کرایا

August 12, 2015 2:42 pm0 commentsViews: 22

نائن زیرو سے گرفتار ٹارگٹ کلر عبید نے تفتیش کے دوران کئی رازوں سے پردہ اٹھا لیا
اہلکاروں کے قتل کیس کے تفتیشی افسر نے انٹروگیشن رپورٹ غائب کر دی تھی، ملزم کا بہانہ
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) پولیس اہلکاروں کے قتل کیس کی انٹرو گیشن رپورٹ سامنے آگئی۔ رپورٹ کے مطابق 90ء کی رہائی میں آپریشن میں حصہ لینے والے پولیس اہلکاروں کے قتل میں معاونت کرنے والے خود پولیس اہلکار ہی نکلے، 90ء کی دہائی میں پولیس اہلکاروں کو قتل، سیاسی بنیادوں پر معاونت خود پولیس افسروں نے کی، نائن زیرو سے گرفتار ٹارگٹ کلر عبید کے ٹو انٹرو گیشن رپورٹ نے کئی رازوں سے پردہ اٹھا دیا۔ ملزم نے ساتھیوں اور پولیس افسروں کی مدد سے 2000ء میں دو پولیس اہلکاروں محمد ریحان اور نثار احمد کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ کرائم برانچ کے دفتر جا رہے تھے۔ اس وقت جمشید ٹائون تھانے میں تعینات اعلیٰ افسر توصیف نے دونوں پولیس اہلکاروں کی خبر عبید کے ٹو کو دی۔ ایم اے جناح روڈ پر بندو خان ہوٹل کے قریب گھات لگا کر دونوں اہلکاروں پر حملہ کیا گیا، ملزم عبید کے ٹو کو 2000ء میں شریف آباد تھانے کی پولیس نے گرفتار کیا۔ دورانِ تفتیش ملزم نے دونوں اہلکاروں کے قتل کا اعتراف بھی کیا۔ اہلکاروں کے قتل کیس میں تھانہ سولجر بازار کے تفتیشی افسر گل فراز نے بھی ملزم سے پوچھ گچھ کی لیکن آئی او نے انٹرو گیشن رپورٹ کو غائب کر دیا۔

Tags: