اداروں کی نااہلی سے کراچی پر قبضہ مافیا کا راج ہے، سندھ ہائی کورٹ

August 13, 2015 3:09 pm0 commentsViews: 16

یہ کیسے ممکن ہے کہ رفاعی پلاٹوں کو من پسند افراد کو لیز پر دے دیا جائے
ادارے ایک دوسرے پر ذمے داری ڈالتے ہیں،فائدہ کوئی اور اٹھاتا ہے، عدالت ریماکس
کراچی( اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ نے رفاہی پلاٹ پر پر کمرشل تعمیرات سے متعلق درخواست پر کے ایم سی سمیت دیگر متعلقہ اداروں سے 8 ستمبر تک جواب طلب کرلیاہے۔ عدالت نے کہا کہ ایک ادارہ دوسرے ادارے پر ذمہ داری ڈالتا ہے۔ فائدہ کوئی اور اٹھاتا ہے۔ اداروں کی نا اہلی کی کی وجہ سے قبضہ مافیا کراچی پر راج کر رہی ہے۔ بدھ کو سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس جسٹس عرفان سعادت کی سربراہی میں میں قائم دو رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار سمیع الدین نے عدالت کو بتایا کہ ہل پارک کے قریب انہیں رفاہی پلاٹ دیا گیا تھا جو کہ 2007 میں واپس لے لیا گیا۔ جس کے بعد مذکورہ پلاٹ پیپلز پارٹی کے رہنما ذوالفقار علی قائم خانی کو الاٹ کیا گیا جس کے بعد اس پر کمرشل کام شروع کردیا گیا۔ کے ایم سی کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ مذکورہ پلاٹ پی ای سی ایچ ایس کے زیر انتظام ہے۔ وزرات ورکس ہی بتاسکتی ہے کہ یہ پلاٹ پیپلزپارٹی کے رہنما کو کس مقصد کے لیے الاٹ کیا گیا۔ جس پر عدالت نے ریمارکس دئیے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ رفاہی پلاٹوں کو من پسند افراد کو لیز پر دے دیا جائے۔ آج تک یہ طے نہیں ہو پایا کہ پلاٹ رفاہی ہے ، کمرشل یا رہائشی ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

Tags: