ایم کیو ایم کے استعفوں سے سندھ حکومت خطرے میں پڑ گئی

August 13, 2015 3:12 pm0 commentsViews: 29

کراچی آپریشن پر تحفظات کااظہار کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان نے سندھ اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپنے استعفے پیش کردیے
چیئرمین سینیٹ کی نشست بھی خطرے سے دو چار، ایم کیو ایم کے تمام سینیٹروں کے مستعفی ہونے کے بعد کراچی سے مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے امیدواروں کا سندھ اسمبلی کی نشستوں پر کامیاب ہونے کا امکان ہے، سندھ کا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہوسکتا ہے
سندھ اسمبلی کی 75 سے زائد نشستیں اپوزیشن جماعتوں کے پاس چلی گئیں تو قائم علی شاہ کی حکومت کا برقرار رہنا ناممکن ہوجائے گا، ایم کیو ایم کے استعفوں سے سب سے زیادہ نقصان پیپلزپارٹی کو ہوتا نظر آرہا ہے
آصف زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ کو متحدہ کے استعفے منظور نہ کرنے کی ہدایت کردی، پی پی کی قیادت کا اجلاس بھی آئندہ ہفتے طلب کرلیا، ایم کیو ایم کو منانے کے لئے الطاف حسین سے بھی رابطہ کیے جانے کا امکان ہے
وزیراعظم نوازشریف نے بھی اسپیکر قومی اسمبلی کو استعفے منظور نہ کرنے کی ہدایت کے بعد آج مشاورت کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کرلیا جس میں آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی، ایم کیو ایم کے استعفے ابھی منظور نہیں ہوئے، وفاقی وزراء
کراچی( آن لائن/ مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ قومی موومنٹ کے استعفوں کے بعد ملک میں ایک بڑے آئینی بحران پیدا ہونے کے خدشات ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان پیپلز پارٹی کو ہو سکتا ہے آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے استعفوں سے سندھ حکومت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ایم کیو ایم کی طرف سے سینیٹ، قومی اسمبلی اور سندھ اسمبلی سے مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد پی پی پی کی سندھ حکومت اور چیئر مین سینیٹ کی نشست خطرے سے دو چار ہوگئی۔ ایم کیو ایم کے تمام سینیٹروں کے مستعفی ہونے کے بعد کراچی شہر سے مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے امیداروں کا سندھ اسمبلی کی نشستوں پر کامیاب ہونے کا امکان ہے۔ اور یہی امیدوار خالی ہونے والی نشستوں پر سینیٹروں کا انتخاب کریں گے۔ جس پر یقیناً چیئر مین سینیٹ میاں رضا ربانی اکثریت کھو بیٹھیں گے، اور مسلم لیگ ن کو اپنا چیئر مین سینیٹ بنانے میں آسانی ہوجائے گی۔ اسی طرح سندھ اسمبلی کی75 سے زائد نشستیں اپوزیشن پارٹیوں کے پاس چلی جانے سے قائم علی شاہ کی حکومت کا قائم رہنا بھی نا ممکن دکھائی دیتا ہے۔ اس طرح ایم کیو ایم کے مستعفیٰ ہونے سے سب سے زیادہ نقصان پی پی پی کو ہوتا نظر آرہا ہے۔ سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ ایم کیو ایم تینوں ایوانوں سے رخصت ہوگی اور پی پی پی کی سندھ حکومت کا سورج غروب ہوجائے گا، اور چیئر مین سینیٹ مسلم لیگ ن سے آنے کا قوی امکان ہے۔ موجودہ صورتحال کے باعث پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری نے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو ہدایت کی ہے کہ ایم کیو ایم کے استعفے منظور نہ کئے جائیں۔ وزیر اعلیٰ کے رابطہ قائم کرنے پر آصف زرداری نے کہا کہ انہوں نے پی پی قیادت کا اجلاس آئندہ ہفتے طلب کیا ہے۔ اجلاس دبئی یا لندن میں ہوگا اس میں استعفوں کی منظوری یا مسترد کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے کہا کہ اجلاس سے قبل استعفوں پر کوئی پیش رفت نہیں کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی قیادت نے بھی اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو ایک پیغام کے ذریعے ایم کیو ایم اراکین کے استعفے فوری منظور نہ کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی پی قیادت سمجھتی ہے کہ ایم کیو ایم کے اسمبلی سے باہر رہنے کی وجہ سے کراچی آپریشن متاثر ہو نے کے ساتھ ساتھ حکومت سندھ کے لئے بھی مشکلات بڑھ جائیں گی۔ پی پی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مسلم لیگ ن کی جانب سے ایم کیو ایم کے استعفے واپس نہیں کرائے تو پیپلز پارٹی کی جانب سے استعفوں کی واپسی کیلئے کوشش کی جائے گی۔ ایم کیو ایم کی جانب سے تمام استعفے واپس نہیں لئے گئے تو انہیں سندھ اسمبلی اراکین کے استعفے واپس لینے پر زور دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ اور رحمن ملک کو ذمہ دار دیئے جانے کا امکان ہے۔ اگر معاملہ پھر بھی حل نہ ہوا تو آصف زرداری کی جانب ایم کیو ایم کو منانے کیلئے الطاف حسین سے رابطے کا بھی امکان ہے۔ فی الوقت پیپلز پارٹی کی جانب سے سندھ اسمبلی کے اراکین کے استعفے منظور نہ کرنے سمیت دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسلام آباد/ کراچی( خبر ایجنسیاں/ اسٹاف رپورٹر) متحدہ کے اراکین نے کراچی آپریشن پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے قومی اسمبلی سینیٹ اور سندھ اسمبلی سے استعفے دیدیئے۔ ایم کیو ایم کے اراکین اسمبلی اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے چیمبر میں گئے اور اپنے استعفے پیش کئے جس پر اسپیکر نے ایم کیو ایم کے 23 اراکین سے فرداً فرداً تصدیق کرنے کے بعد استعفوں کو اگلے پراسیس کیلئے بھجوا دیا ہے ایم کیو ایم کے ایک رکن کے رخصت کے باعث ان کے استعفے کی تصدیق نہ ہو سکی۔ متحدہ قومی موومنٹ کے8 سینیٹرز نے بھی اپنے استعفے سینیٹ کے سیکرٹریٹ میں جمع کرائے۔ ایم کیو ایم کے8 میں سے6 سینیٹرز اپنے استعفے جمع کراتے وقت موجود تھے جبکہ خوش بخت شجاعت بیرون ملک ہونے اور بیرسٹر فروغ نسیم مصروفیت کے باعث استعفے جمع کرانے خود سینیٹ میں نہ آسکے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان سندھ اسمبلی نے اپنی رکنیت سے استعفیٰ دیدیا۔ ایم کیو ایم کے ارکان نے قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن اور پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد کی قیادت میں اپنے استعفے اسپیکر آغا سراج درانی کے پاس جمع کرائے۔ سندھ اسمبلی سے تعلق رکھنے والے ایم کیو ایم کے ارکان نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں استعفیٰ جمع کرائے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں استعفیٰ جمع کرانے کے محرکات کا جائزہ لیا گیا۔ جس کے بعد استعفوں کے ساتھ حکومتی کارکردگی اور ایم کیو ایم سمیت عوامی مسائل پر مشتمل19 نکاتی چارج شیٹ بھی جمع کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں ایم کیو ایم کے35 ارکان نے شرکت کی جبکہ کامران فاروقی، ارم عظیم، سید فیصل علی سبزواری، اشفاق منگی، ارتضیٰ فاروقی، عدنان احمد، خالد افتخار، افتخار عالم، خالد بن ولایت، شیخ عبداللہ، مظاہر امیر سمینہ افضال اور عادل صدیقی ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے جبکہ عبدالحسیب خان، وقار حسین شاہ، اور عارف بھٹی ایم کیو ایم کے شہید کارکن محمد ہاشم کی نماز جنازہ اور آخری رسومات میں شرکت کی وجہ سے شریک نہیں ہو سکے۔ بعد ازاں ایم کیو ایم کے ارکان نے خواجہ اظہار الحسن اور سید سردار احمد کی قیادت میں اسپیکر کے چیمبر میں جا کر اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے استعفے پیش کر دئیے۔ ایم کیو ایم کے35 ارکان خود پیش ہوئے۔ جبکہ ملک سے باہر اور اجلاس میں شریک نہ ہونے والے 16 ارکان کے استعفے خواجہ اظہار الحسن نے اسپیکر کو پیش کر دئیے ، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے تمام ارکان جن کی تعداد51 ہے سب نے استعفیٰ دیدیا ہے۔

Tags: