درد زندگی بھر کا روگ بھی بن سکتا ہے، طبی ماہرین

August 13, 2015 3:51 pm0 commentsViews: 23

ہر درد کا علاج اسی وقت کیا جانا چاہیے جب وہ محسوس ہونا شروع ہو
کراچی (اسٹاف رپورٹر)جرمن ایسوسی ایشن فار پین میڈیسن کے ماہرین نے کہا ہے کہ ہر درد کا علاج اسی وقت کیا جانا چاہیے جب وہ محسوس ہونا شروع ہو ورنہ وہ زندگی بھر کا روگ بھی بن سکتا ہے۔ سوجی ہوئی انگلی کا درد، چکنی غذا کے استعمال کے سبب پیٹ کا درد ہو یا دھوپ میں دیر تک رہنے سے ہونے والا سردرد یہ تمام علامتیں اس بات کی ہیں کہ جسم کا نظام ناقص ہے۔اس کی تشخیص ہوتے ہوتے درد غائب ہو جاتا ہے تاہم کچھ لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کا درد علاج کے بعد بھی موجود ہے۔ یہ وہمی درد دائمی ہو سکتا ہے اور اس کے شکار بہت سے افراد کیلئے یہ عمر بھر کا روگ بن جاتا ہے۔ماہرین نے مزید کہا کہ درد کا فوری طور پر علاج کروانا اور اس کا تدارک اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر یہ زیادہ عرصے تک مریض کو پریشان کرے تو اس کے شکار افراد نفسیاتی طور پر بھی اس بات کا یقین نہیں کر پا رہے ہوتے ہیں کہ ان کا درد حقیقی نہیں بلکہ وہمی ہے۔پروفیسر شوئفے نے بتایا کہ سٹریس یا ذہنی دباو بھی اس قسم کے درد کے پیدا ہونے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ آپ کے اعصابی نظام میں دماغ کے فلٹرنگ فنکشن کو بگاڑ دیتا ہے۔ اس حالت میں آپ غیرپختہ سگنلز بھی حاصل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کیفیت میں مریض مسلسل مختلف ڈاکٹروں اور اسپیشلسٹوں کا چکر لگاتے لگاتے تنگ آ جاتے ہیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ درد محسوس ہوتے ہی اسے جتنی جلد ہو سکے دور کرنے کی کوشش کی جانے چاہیے۔ یہی ایک طریقہ ہے کسی ایسے درد سے بچنے کا جوابتدائی طور پر خود بخود ہی ذہن کو سگنل دینے لگتا ہے اور آخر کار کہنہ یا دائمی درد کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

Tags: