استعفے روکنے کا فیصلہ متحدہ نے اسمبلیوں میں واپسی کیلئے 5 شرائط پیش کردیں

August 14, 2015 2:24 pm0 commentsViews: 22

حکومت کسی بھی پارلیمانی جماعت کو ایوان سے باہر نہیں دیکھنا چاہتی ہے‘ متحدہ کو قومی دھارے میں رہنا چاہئے‘ وزیر اعظم
مولانا فضل الرحمن‘ خورشید شاہ‘ اسحق ڈار اور محمود اچکزئی کو مصالحت کا کردار ادا کرنے کی ذمہ داری تفویض کردی گئی
اسلام آباد( خبر ایجنسیاں) وزیر اعظم نواز شریف کی صدارت میں قومی اسمبلی میں پارلیمانی رہنمائوں کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ایم کیو ایم کے استعفوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا دوسری جانب متحدہ نے ایوان میں واپسی کے لئے حکومت کو5 شرائط پیش کر دی ہیں۔ فیصلہ کیا گیا کہ فی الحال ایم کیو ایم کے استعفے منظور نہ کئے جائیں اور اس ضمن میں مولانا فضل الرحمن، خورشید احمد شاہ، وزیر خزانہ اسحٰق ڈار ، محمود خان اچکزئی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ مصالحت کا کردار ادا کریں اور ایم کیو ایم کی قیادت سے رابطے کرکے انہیں استعفے واپس لینے پر قائل کیا جائے جبکہ وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت کسی بھی پارلیمانی جماعت کو ایوان سے باہر نہیں دیکھنا چاہتی متحدہ کو قومی دھارے میں رہنا چاہئے۔ حکومت کی خواہش اور کوشش ہے کہ تمام پارلیمانی جماعتیں ایوان میں رہ کر اپنا آئینی اور جمہوری کردار ادا کریں۔ ادھر ایم کیو ایم نے استعفے واپس لینے کیلئے شرائط حکومت کو پیش کر دیں جبکہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حکومت نے ایم کیو ایم کو منانے کا ٹاسک دیا ہے جمعرات کو وزیر اعظم نواز شریف نے پارلیمانی رہنمائوں کا ہنگامی اجلاس پارلیمنٹ ہائوس میں اپنے چیمبر میں طلب کیا جس میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، وفاقی وزیر اکرم درانی، اے این پی کے حاجی غلام احمد بلور، فاٹا سے جی ایم جمال، مسلم لیگ کے غوث بخش مہر، قومی وطن پارٹی کے آفتاب شیر پائو، جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ، وفاقی وزراء چوہدری نثار علی خان، اسحق ڈار، پرویز رشید، خواجہ سعد رفیق اور دیگر رہنمائوں نے شرکت کی جبکہ پی ٹی آئی کو مدعو نہیں کیا گیا۔ اجلاس میں اسحاق ڈار نے شرکاء کو ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار سے اپنے رابطوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور کہا کہ ایم کیو ایم کے کراچی آپریشن پر بعض تحفظات ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمن نے بھی اس رائے کا اظہار کیا کہ ایم کیو ایم کے استعفوں سے ملک میں ایک سیاسی بحران پیدا ہو سکتا ہے لہٰذا استعفے قبول کرنے میں جلد بازی نہ کی جائے کیونکہ ایم کیو ایم کراچی کے عوام کی نمائندہ جماعت ہے اور ہمیں چاہئے کہ ایم کیو ایم کے جائز تحفظات دور کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کراچی میں امن و امان کی صورتحال اور رینجرز سے آپریشن کے بعد حالات کی بہتری کے بارے میں بریفنگ دی۔ ادھر ایم کیو ایم نے ایوان میں واپسی کے لئے الطاف حسین کی تقریر ٹی وی پر براہ راست نشر کرنے، کراچی آپریشن کی نگرانی کیلئے فوری کمیٹی قائم کرنے، کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ روکنے، زیر حراست افراد کو عدالت میں پیش کرنے اور لا پتا کارکنوں کی بازیابی کی شرائط حکومت کو پیش کر دیں۔ ادھر اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر فاروق ستار نے ملاقات کی جس میں اسحق ڈار نے واضح کیا کہ آپریشن جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہے۔ ایم کیو ایم پریشان نہ ہو، متحدہ کا پارلیمانی کردار خود اس کے بہترین مفاد میں ہے۔

Tags: