سانحہ صفورا اور آرمی اسکول پر حملے کے 7 مجرموں کو سزائے موت جنرل راحیل نے توثیق کردی

August 14, 2015 2:26 pm0 commentsViews: 22

سزا سنانے سے قبل تمام قانونی تقاضے پورے اور مجرموں کو قانونی معاونت فراہم کی گئی‘ مجرموں کو اپیل کا حق حاصل ہے‘ آئی ایس پی آر
موت کی سزا پانے والوں میں توحید الجہاد کا کارکن حضرت علی‘ مجیب الرحمن‘ سہیل‘ طالبان کارکن تاج محمد اور دیگر شامل
راولپنڈی( مانیٹرنگ ڈیسک) فوجی عدالتوں کی جانب سے 7 دہشت گردوں کوموت اور ایک کو عمر قید کی سزا سنادی گئی‘ آئی ایس پی آر کے ترجمان عاصم باجوہ نے اپنے ٹوئٹر اکائونٹ پر بتایا کہ سزا پانے والے6 دہشت گرد پشاور کے آرمی پبلک اسکول حملے میں ملوث تھے جبکہ ایک کراچی میں صفورا چورنگی کے قریب رینجرز اہلکاروں کے قتل کا مرتکب پایا گیا‘ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ان تمام سزائوں کی توثیق کردی ہے‘ آئی ایس پی آر کے اعلامیہ کے مطابق سز اپانے والوں کو فیئر ٹرائل کا موقع دیا گیا اور انہیں سزائوں کیخلاف اپنا حق حاصل ہے۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سزا دینے سے قبل تمام قانونی تقاضے پورے کئے گئے جبکہ مجرموں کو قانونی معاونت فراہم کی گئی تھی‘ موت کی سزا پانے والا حضرت علی توحید الجہاد کا سرگرم کارکن تھا۔ اسے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے‘ لیویز اہلکاروں کے اغواء‘ قتل اور آرمی پبلک اسکول حملے کیلئے فنڈز اکٹھا کرنے پر قصور وار پایا گیا‘ سزا پانیوالے مجرم مجیب الرحمن عرف علی عرف نجیب اللہ اور سبیل عرف یحییٰ بھی توحید الجہاد کے سرگرم کارکن تھے‘ انہں پشاور میں پاک فضائیہ کے بیس پر حملہ کرنے والے دس خودکش بمباروں کو منتقل کرنے اور آرمی پبلک اسکول پر حملہ کرنے پر اکسانے کاقصور وار پایا گیا‘ موت کی سزا پانے والا مجرم مولوی عبدالسلام بھی توحید الجہاد کے خودکش بمباروں کو تیار کرنے کا مجرم پایا گیا جنہیں بعد میں آرمی پبلک اسکول حملے کے دوران استعمال کیا گیا‘ اس کے علاوہ مجرم نے دو کرنلوں اور این ڈی سی کے ڈائریکٹر کو قتل کرنے کا بھی اعتراف کیا‘ مجرم تاج محمد تحریک طالبان پاکستان کا سرگرم کارکن تھا‘ اسے پاکستان کی مسلح افواج پر حملوں اور خودکش بمباروں کو تیار کرنے کا قصور وار پایا گیا جنہیں بعد میں آرمی پبلک اسکول حملے کے دوران استعمال کیا گیا‘ اس کے علاوہ مجرم نے دو کرنلوں اور این ڈی سی کے ڈائریکٹر کو قتل کرنے کا بھی اعتراف کیا۔ مجرم تاج محمد تحریک طالبان پاکستان کا سر گرم کارکن تھا‘ اسے پاکستان کی مسلح افواج پر حملوں اور خودکش بمباروں کو تیار کرنے کا قصور وار پایا گیا جنہیں بعد میں آرمی پبلک اسکول حملے کے دوران استعمال کیا گیا‘ عتیق الرحمن عرف عثمان توحید الجہاد کا کارکن تھا‘ اسے سی آئی ڈی کے پولیس اسٹیشن‘ جرائم کیلئے فنڈز فراہم کرنے اور آرمی پبلک اسکول کے حملہ آوروں کو اکسانے کا قصور وار پایا گیا‘ مجرم کفایت اللہ عرف کیف قاری کو دو شہریوں کے گھر کے باہر آئی ای ڈی نصب کرنے‘ گولہ بارود اور ہتھیار وں کو منتقل کرنے اور آرمی پبلک اسکول کے حملہ آوروں سے رابطے میں رہنے کا مجرم پایا گیا‘ اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی‘ اس کے علاوہ مجرم محمد فرحان علی عرف عباس عرف اعجاز قادری جیش محمد کا سرگرم کارکن تھا‘ اسے صفورا چورنگی کے قریب پاکستان رینجرز کے اہلکاروں پر حملے کا مرتکب پایا گیا جس کے نتیجے میں تین اہلکار ہلاک ہوئے تھے‘ اسے موت کی سزا سنائی گئی۔

Tags: