لیفٹیننٹ جنرل(ر) ظہیر الاسلام اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے تھے، مشاہد اللہ خان

August 15, 2015 4:01 pm0 commentsViews: 26

انٹیلی جنس بیورو نے ٹیلی فونک گفتگو پکڑی، سازش صرف وزیراعظم کیخلاف نہیں تھی، جنرل راحیل شریف بھی نشانہ تھے، بی بی سی کو انٹرویو
خبر بے بنیاد ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر، وزیراعظم نے وفاقی وزیر سے وضاحت مانگ لی، لوگ ایسی باتیں کر رہے تھے میں نے بھی کہہ دیں، مشاہد اللہ
اسلام آباد( نیوز ایجنسیاں) وفاقی وزیر مشاہد اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ( ر) ظہیر الاسلام اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ اس سازش کا نشانہ صرف وزیر اعظم نواز شریف نہیں تھے بلکہ یہ سازش بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے خلاف بھی تھی۔ کابینہ کے اہم رکن اور قریبی ساتھی مشاہد اللہ خان نے دھرنے کے ایک سال مکمل ہونے پر برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دئے گئے ایک انٹر ویو میں کہا کہ پچھلے سال اسلام آباد میں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے دوران آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ( ر) ظہیر الاسلام نے ایک سازش تیار کی تھی جس کے ذریعے وہ فوجی اور سول قیادت کو ہٹاکر ملک پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ مشاہد اللہ خان کے بقول اس سازش کا انکشاف اس وقت ہوا جب انٹیلی جنس ایجنسی بیورو نے ظہیر الاسلام کی ٹیلی فونک گفتگو ٹیپ کی، جس میں وہ مختلف لوگوں کو ہدایات دے رہے تھے دھرنے کے دوران کس طرح افرا تفریح پھیلا نی ہے اور وزیر اعظم ہائوس پر قبضہ کرنا ہے۔ دوسری طرف ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ میڈیا میں زیر بحث آڈیو ٹیپ سے متعلق خبر بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے افواہوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، ایسی افواہیں غیر جانبدارانہ اور غیر پیشہ وارانہ ہیں۔ دوسری جانب وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نیسینیٹر مشاہد اللہ سے وضاحت طلب کر لی ہے ترجمان وزیر اعظم ہائوس نے مشاہد اللہ کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹر مشاہد اللہ کی جانب سے سابق آئی ایس آئی سربراہ جنرل ظہیر الاسلام کی جس ٹیپ ریکارڈنگ کا ذکر کیا ہے اس کا وجود ہی نہیں ہے۔ وزیر اعظم کو ایسے کسی ٹیپ کا علم نہیں تھا اور نہ ہی کوئی ایسی ٹیپ سنوائی گئی ہے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ یہ واقعہ حقائق سے دور ہے یہ من گھڑت واقعہ ہے۔ پتہ نہیں مشاہد اللہ خان نے یہ باتیں کہاں سے سنی۔ علاوہ ازیں سینیٹر مشاہد اللہ خان نے نجی ٹی وی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی نشریاتی ادارے سے انٹر ویو میں سرکاری طور پر بات نہیں کی۔ برطانوی ادارے نے کچھ باتیں ایڈٹ کر دیں اور کچھ چلا دیں، تمام باتیں مجھ سے منسوب کرکے میرے لئے پریشانی کھڑی کر دی گئی ہے۔ سینیٹر مشاہد اللہ کا کہنا تھا کہ میں نے ایسی ٹیپ سنی نہ اس کا علم ہے۔ ایسی باتیں چل رہی تھیں۔ میں نے بھی کہہ دیں۔ انٹر ویو میں صرف یہ کہا تھا کہ لوگ ان دنوں ایسی باتیں کر رہے تھے۔ اس انداز سے باتیں نہیں کی جس انداز سے برطانوی ادارے نے چلائی ہیں۔

مشاہد اللہ کے بیان سے حساس اداروں میں ہلچل، تحقیقات شروع
حکومت کو واضح پیغام دے دیا گیا کہ ایسی سازش کیخلاف سخت ترین کارروائی ہوگی
لاہور( نیو زڈیسک) وفاقی وزیر مشاہد اللہ خان کے بیان پر حساس اداروں نے نہ صرف سخت تشویش کااظہار کیا ہے بلکہ اس پر انکوائری بھی شروع کردی ‘ مشاہد اللہ خان نے اس موقع پر جب پوری قوم دہشت گردوں کو شکست دینے پر خوشیاں منارہی ہے تو اس وقت ایسا بیان انہوں نے کس کے کہنے پر دیا اور حساس اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کس کو خوش کرنے کیلئے کی گئی؟ ذرئع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کی طرف سے ایسی کسی بھی ٹیپ اور گفتگو کے حوالے سے تردید کرنے پر ہی اس با ت کو ختم نہیں کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات پر اداروں میں سخت ترین ناراضگی کااظہار کیا گیا ہے اور حکومت کو واضح طور پر یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ ایسی جھوٹی سازش کیخلاف سخت ترین کارروائی کی جائے‘ ذرائع کا کہناہے کہ مشاہد اللہ خان کے اس بیان پر وفاقی وزیر داخلہ بھی سخت ناراض ہوگئے ہیں‘ حکومتی اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ مشاہد اللہ خان کو وزارت سے بھی ہاتھ دھونا پڑیگا اور اس کی تردید کے ساتھ ساتھ سینیٹر شپ سے بھی فارغ ہوسکتے ہیں۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق مشاہد اللہ نے اس انٹرویو کے وقت اور اس کے بعد کن کن سے ملاقات کی اور کس کس کے ساتھ اس بارے میں گفتگو کی اس حوالے سے بھی معلومات حکومت اور اہم اداروں کو فراہم کردی گئی ہیں۔

Tags: