کراچی میں بڑے سیاسی تصادم کا خطرہ

August 15, 2015 4:12 pm0 commentsViews: 32

مہاجروں کے نام پر سیاست کرنے والی دونوں جماعتوں کے کارکنوں میں ہونے والی معمولی جھڑپیں بڑے خونریز تصادم کی شکل اختیار کرسکتی ہیں، حساس اداروں نے حکومت کو خدشات سے آگاہ کردیا
متحدہ اور مہاجر قومی موومنٹ آمنے سامنے
شہر کا امن خراب کرنے کی سازش کی جارہی ہے، لانڈھی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور رینجرز نے ہمارے علاقوں پر قبضہ کرایا، ایک بار پھر لانڈھی کورنگی سمیت دیگر علاقوں کو نوگوایریا بنانے کی سازش کی جارہی ہے، فاروق ستار کا ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب
کراچی میں سیاست کا رخ موڑ کر دکھائیں گے، اپنے گھروں کو واپس آئے ہیں اور مستقل رہیں گے، تصادم اور اشتعال انگیزی کا حصہ نہیں بنیں گے، کراچی میں کوئی نوگوایریا نہں ہے،مہاجر قومی موومنٹ کے رہنما خالد حمید کی آفاق احمد کے گھر پر پریس کانفرنس
کراچی( اسٹاف رپورٹر/ کرائم ڈیسک) کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ اور مہاجر قومی موومنٹ کے کارکن پھر آمنے سامنے آگئے ہیں۔ لانڈھی، کورنگی، ملیر، شاہ فیصل کالونی، لائنز ایریا، لیاقت آباد اور دیگر علاقوں میں مہاجر قومی موومنٹ کے کارکن ریلیوں کی شکل میں گشت کر رہے ہیں حساس اداروں نے اس صورتحال پر حکومت کو اپنی تشویش سے آگاہ کرتے ہوئے کراچی میں بڑے سیاسی تصادم کا خدشہ ظاہر کر دیا ہے۔ جس میں خونریزی بھی ہو سکتی ہے۔ حساس اداروں کی جانب سے وفاقی وزرات داخلہ کو ارسال کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متحدہ کے کارکنوں کی روپوشی کے بعد مہاجر قومی موومنٹ کے کارکنوں نے ان علاقوں میں انٹری ڈالنا شروع کر دی ہے جہاں ماضی میں ان کی اکثریت تھی ان علاقوں میں لانڈھی اور کورنگی کے علاقے خاص طور پر قابل ذکر ہیں لانڈھی میں جہاں پہلے مہاجر قومی موومنٹ کا مرکز بیت الحمزہ واقع تھا اب دوبارہ کارکنوں کی بڑی تعداد اپنے گھروں کو واپس آگئی ہے۔ جس کے بعد دونوں گروپوں میں خونریز تصادم کا خطرہ بڑھ گیا۔ حساس اداروں نے ان علاقوں میں سیکورٹی بڑھانے کی تجویز دی ہے اور ساتھ ہی غیر جانبدار تھانیدار تعینات کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے دوسری طرف متحدہ قومی موومنٹ نے الزام لگایا ہے کہ مہاجر قومی موومنٹ ( حقیقی) کے کارکنوں کو سرکاری سرپرستی میں دوبارہ مسلط کیا جا رہا ہے۔ جمعہ کی شام لانڈھی میں ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ارکان اور سابق اراکین اسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم کے خلاف ایک بار پھر92 کی طرز پر ریاستی مشینری کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ لانڈھی میں جشن آزادی کی تیاریوں میں مصروف ایم کیو ایم کے کارکنان کی گرفتاری سے ظاہر ہوگیا ہے کہ ہمیں جشن آزادی منانے سے روکا جا رہا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں/ رینجرز نے کارکنان و ذمہ داروں کو گرفتار کرکے اطراف کے علاقوں میں دہشت گردوں کا قبضہ کروا دیا ، یہ انتہائی غیر آئینی و غیر قانونی اقدام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گرفتار ہونیوالے کارکنان میں سے کوئی بھی فرد ہماری اطلاعات کے مطابق کسی جرائم پیشہ سرگرمی میں ملوث نہیں تھا۔ گزشتہ رات لانڈھی میں ایم کیو ایم کے کارکنان و عوام کا جناح گرائونڈ عزیز آباد میں ہونیوالے جشن آزادی پروگرام کیلئے تیار کر رہے تھے اس دوران رینجرز کے اہلکاروں نے بلا جواز چھاپہ مار کر ہمارے بے گناہ کارکنان سے پاکستانی پرچم چھین کر انہیں گرفتار کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے کارکنان بھی دیگر ہم وطنوں کی طرح جشن آزادی کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ لیکن انہیں گرفتار کرکے ہماری خوشیوں کو خاک میں ملا دیا گیا ہمیں خدشہ ہے کہ24 گھنٹوں میں کارکنان کو عدالت میں پیش نہ کیا گیا تو وہ بھی لا پتہ ہوجائیں گے۔ جو کہ انسانی حقوق کی پامالی اور غیر قانونی اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے منتخب علاقوں اور عوام کو جبراً دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے حوالے کرکے لانڈھی میں امن کو خراب کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعظم پاکستان، وفاقی وزیر داخلہ، چیف آف آرمی اسٹاف، کور کمانڈر سندھ اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سمیت فوج کے متعلقہ اداروں تک یہ پیغام پہنچایا ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ گزشتہ رات قانون ناٖذ کرنے والے ادارے رینجرز کے اہلکاروں کے ہمراہ آنے والے دہشت گرد نے شہید کارکنان کے اہل خانہ کے گھروں پر جا کر انہیں ہراساں کر رہے ہیں اور ایف آئی آر میں ان کا نام نکالنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ جس کے بعد الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی بھی عوامی رد عمل کو روکنے سے قاصر ہوں گے۔ ایک مرتبہ پھر لانڈھی کورنگی سمیت مختلف علاقوں کو نو گو ایریا بنانے کی سازش کی جا رہی ہے۔ اور ہم نے اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے عوام سے صبر کی اپیل کی ہے لیکن اب اس سلسلے کو روک کر سیاسی مسائل کو سیاسی طریقے سے حل کرنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لانڈھی، کورنگی، لائنز ایریا، لیاقت آباد، کے بعد پاک کالونی میں بھی دہشت گروں نے ایم کیو ایم کے جشن آزادی کیمپ پر فائرنگ کی ہے تا کہ ہمیں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے اور پاکستانی پرچم بلند کرنے سے روکا جا سکے جو ملک دشمنی کا عمل ہے۔ بعد ازاں ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان کی سربراہی میں شاندار آزادی ریلی نکالی گئی جس میں علاقے کے عوام خصوصاً نوجوانوں نے حصہ لیا۔ ریلی لانڈھی، سیکٹر آفس سے شروع ہوئی۔ جو مختلف علاقوں اور شاہراہوں سے گفت کرتی ہوئی سیکٹر آفس پر اختتام پذیر ہوئی۔ ایم کیو ایم کی ریلی کا لانڈھی کی عوام نے زبردست خیر مقدم کیا اور ایم کیو ایم پر اپنے بھر پور اعتماد کا اظہار کیا۔ اس موقع پر جشن آزادی ریلی کے شرکاء کے ہاتھوں میں پاکستانی اور ایم کیو ایم کے پرچم، بانی پاکستان محمد علی جناح ؒ اور قائد تحریک الطاف حسین کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔

Tags: