خواتین کو با اختیار بنانے کیلئے مربوط قانون سازی کرنا ہوگی، خواتین لیڈر شپ کانفرنس

August 15, 2015 4:22 pm0 commentsViews: 21

سیاسی جماعتوں میں خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات ہوتے ہیں، خواتین سیاسی رہنمائوں کو براہ راست انتخابات میں حصہ لینا چاہیے، ریحام خان
خواتین کے حقوق کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے، شیری رحمن، ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، نثار کھوڑو، فوزیہ قصوری اور دیگر کا خطاب
کراچی( اسٹاف رپورٹر) ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین رہنمائوں نے کہا کہ ملک میں خواتین کو با اختیار بنانے ان کے تحفظ اور بنیادی حقوق فراہم کرنے کے لئے مربوط قانون سازی کی ضرورت ہے۔ پارلیمنٹ، اسمبلیاں خواتین کے حوالے سے مزید قانون سازی کریں۔ اور حکومت ان پر موثر انداز میں عملدر آمد کرائے خواتین کو با اختیار بنانے کیلئے پرائمری سطح پر تعلیم میں اصلاحات لانا ضروری ہے۔ جبکہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں مختص خواتین کی نشستوں میں اضافہ کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی اہلیہ ریحام خان، پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمن، سابق اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، سندھ کے وزیر اطلاعات نثار احمد کھوڑو، ٹرپل ای کے آرگنائزر ارشد صدیقی، پی ایف یو جے کے سیکریٹری جنرل امین یوسف، کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر جی ایم جمالی اور دیگر نے جمعہ کو مقامی ہوٹل میں نویں عالمی کانفرنس برائے خواتین لیڈر شپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس کا انعقاد ایکسلیٹ، ایونٹ اینڈ انٹر ٹینمنٹ پرائیوٹ لمیٹڈ نے محکمہ اطلاعات سندھ اور دیگر کے تعاون سے کیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریحام خان نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں خواتین کو ہراساں کرنے کے بھی واقعات ہوتے ہیں۔ تاہم یہ واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔ خواتین سیاسی رہنمائوں کو چاہئے کہ وہ براہ راست انتخابی عمل میں حصہ لیں۔ شیری رحمن نے کہا کہ ہم خواتین کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ جمہوریت کی مضبوطی میں بھی خواتین کا کردار نمایاں رہا ہے۔ خواتین کے مسائل کے لئے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پی ٹی آئی کی رہنما فوزیہ قصور نے کہا کہ اسمبلیوں میں قوانین تو بن جاتے ہیں لیکن ان پر عملدر آمد نہیں ہوتا۔ جی ایم جمالی نے کہا کہ خواتین معاشرے کی تربیت میں ایک موثر کردار ادا کرتی ہیں اور اسلام میں خواتین کو نمایاں مقام دیا گیا ہے۔ ارشد صدیقی نے کہا کہ آج کی کانفرنس کے انعقاد کا مقصد خواتین کے مسائل اور ان کے حقوق کو اجاگر کرنا ہے۔ کانفرنس میں موجود دیگر شرکاء نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کو با عزت مقام دلانے کے لئے ضروری ہے کہ خواتین کے تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کی جائیں۔