غریب آباد انڈر پاس کے قریب ایڈیشنل کمشنر کراچی کی گاڑی پر فائرنگ

August 17, 2015 4:53 pm0 commentsViews: 303

حاجی احمد اپنے بھانجے کے ہمراہ سرکاری گاڑی میں جارہے تھے پیچھے سے 8سے 10فائر کیے گئے
انڈرپاس سے نکلنے کے بعد رینجرز کو اطلاع دی، سیکورٹی فورسز نے فائرنگ کے واقعے کو پراسرار قرار دے دیا
جائے وقوعہ سے نہ گولیوں کے خول ملے ہیں اور نہ ہی قریب کی دیواروں پر گولیوں کے کوئی نشانات ہیں
ایڈیشنل کمشنر کی گاڑی پر کوئی حملہ نہیں ہوا پھر بھی پولیس واقعے کی مزید تفتیش کررہی ہے، ایس پی لیاقت آباد
کراچی(اسٹاف رپورٹر)غریب آباد انڈر بائی پاس کے اندر ایڈیشنل کمشنر کراچی کی سرکاری گاڑی پرپراسرار فائرنگ میںوہ اور ان کا بھانجا محفوظ رہے ،موقع سے فائرنگ کے کوئی شواہد نہیں ملے،ایس پی لیاقت آباداصغر عثمان ۔حاجی احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوتے بتایا کہ وہ اپنے بھانجے کے ہمراہ اپنی سرکاری گاڑی میں جارہے تھے ،ان کی گاڑی کے پیچھے 8 سے 10 فائر ہوئے،جس پر وہ گھبراگئے اور گاڑی ڈرائیوکرنے والے اپنے بھانجے کو گاڑی کا سائرن بجاتے ہوئے تیزی سے نکلنے کی ہدایت دی اور انڈربائی پاس سے نکلنے کے بعدسڑک پر واقعہ رینجرز کی چوکی کے پاس رک گئے اور واقعے کی اطلاع اہلکاروں کو دینے کے ساتھ 15 مدد گار پولیس کو اطلاع دی۔ایڈیشنل کمشنر کا دعوی ہے کہ حملہ ان کی گاڑی پر کیا گیا تھا،تاہم واقعے کی اطلاع پا کر پولیس اوررینجرز کی بھاری نفری موقع پرپہنچ گئی اور صورتحال کو جاننے کیلئے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا، ایس پی لیاقت آبا نے بتایا کہ جس مقام پر ایڈیشنل کمشنر کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی،وہاں سے گولیوں کے خول نہیں ملے،نہ ہی انڈربائی پاس کی دیواروں پر کوئی فائرنگ کے نشانات موجود ہیں اورایڈیشنل کمشنر کی گاڑی پر بھی کوئی فائر نہیں لگا،ایس پی کا دعوی ہے کہ ایڈیشنل کمشنر کی گاڑی پر کوئی حملہ نہیں ہوا،اس کے باوجود بھی پولیس واقعے کی مزید تفتیش کررہی ہے۔

Tags: