معاہدے کی خلاف ورزی بلدیہ عظمیٰ نے سڑکوں پر قائم 291 بس شیلٹرز تحویل میں لے لئے

August 17, 2015 5:34 pm0 commentsViews: 28

بس شیلٹر ز کی مرمت و دیکھ بھال‘ تجارتی بنیادوں پر چلانے میں ناکامی اور کروڑ روپے ریونیو کی عدم ادائیگی پر کارروائی
بلدیہ عظمیٰ کراچی میں شلٹرز اور ٹک شاپس کیلئے نئی پالیسی بنائے گی اور پورے بقایاجات وصول کئے جائیں گے‘ کمشنر کراچی
کراچی (سٹی رپورٹر) بلدیہ عظمیٰ کراچی نے شہر کی سڑکوں پر تعمیر 291 بس شیلٹر کو تحویل میں لے لیا جبکہ بس شیلٹر پر قائم تقریباً 20سے زائد ٹک شاپ کو سیل کردیا گیا ہے یہ اقدام بس شیلٹر بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے ( سابق سٹی حکومت) کے ایم سی کے ساتھ کئے گئے معاہدہ کی خلاف ورزی بس شیلٹر کو معاہدہ کے مطابق مرمت و دیکھ بھال اور صفائی ستھرائی نہ کرنا اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تقریباً 5کروڑ روپے بقایا جات کی ادائیگی نہ کرنے کی وجوہات پر کیا گیا، ایڈمنسٹریٹر کراچی شعیب احمد صدیقی نے کہا کہ متعلقہ کمپنیوں نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی عوامی بس اسٹاپ ( بس شیلٹر) کی مرمت و دیکھ بھال میں ناکامی اور ان کو تجارتی بنیادوں پر چلانے اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے کروڑوں روپے ریونیو کی عدم فراہمی کی وجہ سے یہ کارروائی کی گئی ہے بلدیہ عظمیٰ کراچی ان بس شیلٹر اور ٹک شاپ کے لئے نئی پالیسی ترتیب دے گی ان کمپنیوں سے پورے بقایا جات وصول کئے جائیں گے اور بس شیلٹر کی مرمت اور خوبصورتی کی بحال کی جائے گی بصورت دیگر ان بس شیلٹر اور ٹک شاپ کو بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ریونیو کے لئے استعمال میں لایا جائے گا جو نیا معاہدہ یا کھولی نیلامی بھی ہوسکتا ہے جبکہ ذمہ دار افسران سے جواب طلبی بھی کی جارہی ہے کہ وہ بس شیلٹر کی خراب صورتحال اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے کروڑوں روپے ریونیو وصولی میں کیوں نا کام ہوئے، تفصیلات کے مطابق ایڈمنسٹریٹر کراچی شعیب احمد صدیقی کو ایک اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ 2004 میں شہر میں مسافروں کے لئے پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے بس شیلٹر اور ٹک شاپ تعمیر کرنے کا ایک منصوبہ شروع ہوا تھا جس میں 3 کمپنیوں نے حصہ لیا، سائن سوئر کمپنی نے شہر میں 220 بس شیلٹر تعمیر کئے معاہدے کے مطابق اس کمپنی نے سالانہ 48 لاکھ روپے بلدیہ عظمیٰ کراچی کو ریونیو کی مد میں ادا کرنے تھے جبکہ کے ایم سی کو ادائیگی نہیں ہوئی اور نہ ہی بس شیلٹر کی دیکھ بھال صفائی ستھرائی اور مرمت کی ذمہ داری احسن طریقہ سے پوری کی گئی بلکہ اس کمپنی نے بس شیلٹر پر اشتہار لگا کر کروڑوں روپے سالانہ کمائے مگر بلدیہ عظمیٰ کراچی کو ادائیگی نہیں کی گئی جس پر تقریباً 4کروڑ روپے سے زائد بقایا جات ہیں، یونائیٹڈ کنسٹرکشن کمپنی نے 51 بس شیلٹر بنانے تھے جس میں 20 ٹک شاپ بھی تعمیر کی گئیں مگر اس نے بھی معاہدے کی خلاف ورزی کی شیلڈ پوائنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کے ساتھ معاہدہ کے مطابق 50 بس شیلٹر تعمیر کرنے تھے مگر صرف 20 تعمیر کئے گئے اس کمپنی نے 12 لاکھ روپے سالانہ کے ایم سی کو ادا کرنے تھے مگر آج تک ریونیو کی مد میں کچھ نہیں دیا اور اشتہارات لگا کر کروڑوں روپے کمائے گئے۔

شہر میں غیر قانونی بچت بازار لگانے کا سلسلہ جاری کمشنرکارروائی کرنے میں ناکام
محکمہ ای اینڈ آئی پی کے افسران اور آرگنائزر مافیا کے گٹھ جوڑ کے باعث پارکوں‘ میدانوں اور فٹ پاتھوں پر بچت بازار لگائے جارہے ہیں
پولیس اہلکار اور شہری انتظامیہ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگی‘ حکومتی خزانے کو کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا جارہا ہے
کراچی(رپورٹ۔فرید عالم)ایڈمنسٹریٹروکمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی غیر قانونی بچت بازاروں کے خلاف کارروائی کرنے میں بھی ناکام ہوگئے ۔پرانی تاریخوں میں اجازت نامے جاری کرنے کا سلسلہ جاری،سینئر ڈائریکٹر مکمل طور پر لاعلم،حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان‘تفصیلات کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ ای اینڈ آئی پی کے افسران اور آرگنائزر مافیا کے مابین زبردست گٹھ جوڑ قائم ہونے کے باعث شہر کے کھیل کود کے میدانوں،پارکوں ،رفاعی پلاٹوں سمیت سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر بھی بڑے پیمانے پر ہفتہ واری بچت بازار لگائے جارہے،ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ شہر میں لگنے والے غیر قانونی بچت بازاروں کی محکمے کے افسران کی جانب سے مکمل سرپرستی کی جارہی ہے جبکہ مذکورہ بازاروں کے اجازت نامے بھی مشکوک ہیں،زرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ ای اینڈ آئی پی کے دو افسران متعدد بچت بازاروں میں شراکت دار ہیں جس میں کورنگی،لانڈھی،شاہ فیصل، ملیر،شرف آباد سمیت ڈسٹرکٹ سینٹرل میں لگنے والے بازاروں جس میں بالخصوص نارتھ کراچی،سرجانی،نارتھ ناظم آباد،لیاقت آباد کے علاوہ دیگر شامل ہیں مذکورہ علاقوں کے بازاروں میں محکمے کے افسران نے مبینہ طور پر شرکت داری قائم کر کے آرگنائزرز کو لوٹ مار کی کھلی اجازت دیدی ہے جبکہ دوسری طرف سندھ حکومت کا محکمہ بیوروآف سپلائی پرائس کنٹرول کرنے کے بجائے مبینہ طور پر اپنا حصہ لیکر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے جبکہ شہری انتظامیہ اور پولیس ا ہلکار بھی غیر قانونی بچت بازاروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں مصروف ہوگئے ہیں جس کے باعث بچت بازار مافیا کا نیٹ ورک مزید مضبوط بن گیا ہے۔

کورنگی میں گرائونڈ کیساتھ سڑکوںپر بھی بچت بازار، عوام پریشان
ہزاروں گزرقبے پر لگنے والے بچت بازاروں پر صرف3ہزار ماہانہ ٹیکس دیاجاتا ہے
کراچی (سٹی رپورٹر)کورنگی میں لگنے والا اتوار بچت بازار علاقہ مکینوں کیلئے وبال جان بن گیا، آرگنائزر نے گرائونڈ کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر بھی ٹھیلے پتھارے قائم کرادیئے،ہزاروں گز رقبے پر اتوار بچت بازار قائم بلدیہ کراچی کو صرف6ہزار روپے ہفتہ کا ٹیکس،تفصیلات کے مطابق بلدیہ کراچی محکمہ ای اینڈ آئیپی کے افسران کی مبینہ ملی بھگت سے شہر میں لگنے والے بچت بازاروں میں حدود رقبہ کی سنگین بدعنوانیاں کی جارہی ہیں،ہزاروں گز رقبے پر لگنے والے بچت بازاروں کا ٹیکس انتہائی معمولی 3ہزار روپے ماہانہ تک وصول کیا جارہا ہے جس کا ایک ہزار روپے ہفتہ بھی ٹیکس نہیں بنتا،ذرائع کا کہنا ہے کہ ہزاروں گز جگہ پر لگنے والے بازاردرست پیمائش نہ کئے جانے سے حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے،اسی طرح کورنگی ساڑھے تین نمبر گرائونڈ پر لگنے والا اتوار بچت بازارعلاقہ مکینوں کیلئے عذاب جان بن گیا ہے ،علاقہ مکینوں کے مطابق آرگنائزر نے گرائونڈ کے ساتھ ساتھ اطراف کی سڑکوں کو بھی بچت بازار میں شامل کرلیا ہے جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہونے کے ساتھ ساتھ علاقہ مکینوں کو شدید دشواریوںکا سامنا ہے۔

Tags: