ایم کیو ایم سے بات چیت غیر مشروط ہوگی‘ مولانا فضل الرحمن

August 18, 2015 3:53 pm0 commentsViews: 27

امید ہے پہلی ملاقات میں بات چیت کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے‘ ایم کیو ایم استعفے واپس لینے پر تیار ہوجائیگی
الطاف حسین نے کوئی شرط نہیں رکھی پیش رفت سے قوم اور وزیر اعظم کو آگاہ کردوں گا‘ کراچی میں پریس کانفرنس
کراچی( اسٹاف رپورٹر) جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے استعفوں کے معاملے پر ایم کیو ایم کی قیادت سے مذاکرات کیلئے کراچی آیا ہوں امید ہے کہ بات چیت کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور پہلی ہی ملاقات میں معاملات طے ہوجائیں گے‘ا لطاف حسین نے ابھی تک کوئی شرط نہیں رکھی‘ بات چیت غیر مشروط طور پر ہوگی اور مذاکرات میں جو بھی پیش رفت ہوگی اس سے قوم اور وزیراعظم کو آگاہ کروں گا‘ نائن زیرو پر جانے پر کارکنوں کے تحفظات اپنی جگہ لیکن قیادت فیصلے ملکی سلامتی اور قومی مفاد میں کرتی ہے‘ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کی شب قصر ناز میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اکرم خان درانی‘ قاری محمد عثمان‘ مولانا عمر صادق و دیگر موجود تھے‘ مولانا فضل الرحمن سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ پر امید ہیں کہ ایم کیو ایم استعفے واپس لینے پر رضامند ہوجائیگی تو اس پر انہوں نے کہا کہ میں پر امید ہوں اگر امید نہ ہوتی تو میں کراچی نہ آتا‘ ملکی استحکام کیلئے سیاسی استحکام کا ہونا ناگزیر ہے‘ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین سے اطمینان بخش بات چیت ہوئی وہ کراچی آپریشن کیخلاف نہیں تاہم انہوں نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ اگر آپریشن پر ایم کیو ایم کے تحفظات ہیں تو ان کو سننا اور دور کرنا چاہئے‘ آپریشن غیر جانبدار ہونا چاہئے‘ کراچی آپریشن جرائم پیشہ عناصر کیخلاف ہے‘ اس کے ثمرات عوام کو ملے ہیں اور ان میں احساس تحفظ پیدا ہوا ہے۔

مولانا فضل الرحمن آج پہلی بار نائن زیرو جائیں گے
بے نظیر بھٹو شہید ، آصف زرداری، نواز شریف وغیرہ بھی نائن زیرو جا چکے ہیں، عمران خان آج تک نہیں گئے
کراچی(اسٹاف رپورٹر)متحدہ قومی موومنٹ کا مرکز نان زیرو سندھ میں سیاسی اہمیت کا حامل ہے۔ حکومتیں بنانے کے لیے مختلف جماعتوں کے سربراہ بھی نائن زیرو کا دورہ کرچکے ہیں۔ آج منگل کو پہلی بار جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نائن زیرو کا دورہ کریں گے۔ اس سے قبل 2008ء کے عام انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے 2 اپریل 2008ء کو ایم کیو ایم کو پیپلزپارٹی کی حکومت میں شامل کرنے کے لیے دورہ کیا تھا۔ ماضی میں پیپلزپارٹی کی شہید چیئرپرسن بے نظیر بھٹو بھی 1988ء میں نائن زیرو آکر الطاف حسین سے ملاقات کرچکی ہیں۔ جبکہ 1990ء میں مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نوازشریف بھی نائن زیرو کا دورہ کرچکے ہیں۔ 8 اپریل 1990ء میں جب الطاف حسین نے بھوک ہڑتال کی تھی اس وقت اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے 9 اپریل 1990ء کو میاں نوازشریف نے الطاف حسین سے ملاقات کی تھی۔ 1990ء میں ہی نگراں وزیراعظم غلام مصطفی جتوئی بھی نائن زیرو آئے تھے۔ مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین بھی کئی بارنائن زیرو کا دورہ کرچکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے صدر مملکت کے لیے نامزد صدر ممنون حسین بھی صدارت کے لیے ووٹ مانگنے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو گئے تھے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ خان عبدالولی خان اور ان کی اہلیہ نسیم ولی خان بھی ایم کیو ایم کے سیاسی مرکز پر جاچکے ہیں۔ مختلف جماعتوں کے سربراہوں کا جائزہ لیا جائے تو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اب تک نائن زیرو نہیں گئے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کراچی کے علاقے عزیز آباد میں واقع نائن زیرو ایم کیو ایم کا سیاسی قبلہ اور طاقتور سیاسی مرکز ہے جس کا تقریباً ہر سیاسی جماعت کا سربراہ دورہ کرچکا ہے۔

Tags: