کرپشن قبضے تحقیقاتی اداروںنے سندھ کے 3 وزراء کی گرفتاری کیلئے شواہد جمع کرلئے

August 18, 2015 4:02 pm0 commentsViews: 47

سندھ حکومت کی جانب سے وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے اور آئے دن افسران کے تقرر و تبادلوں نے مقتدر حلقوں کے تحفظات بڑھا دیئے
موجودہ صورتحال میں سندھ کے وزراء میں گروپ بندی بھی واضح ہوگئی‘ وزراء اپنے قلمدان بچانے اور حاصل کرنے کی جنگ میں مصروف
کراچی(نیوزڈیسک)اعلیٰ تحقیقاتی اداروں نے کرپشن اور قبضوں سمیت دیگر الزامات میں ملوث سندھ کے 3 وزراء کی گرفتاری کے لیے شواہد جمع کرلیے ہیں۔ جنہیں ممکنہ طور پر قانون کی گرفت میں لیا جاسکتا ہے۔ ان میں سرفہرست سندھ کابینہ کے جونیئر ترین رکن کا نام شامل ہے۔ علاوہ ازیں سندھ کی جانب سے موثر اقدامات کرنے کے بجائے آئے دن افسران کی تقرری و تبادلوں اور وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے کے عمل نے مقتدر حلقوں کے تحفظات بڑھا دیے ہیں۔ جس سے حکومت سندھ اور مقتدر حلقوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ اس سلسلے میں ایپکس کمیٹی کے آئندہ اجلا س میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔ تفصیلات کے مطابق حکومت سندھ کی جانب سے تقریباً3 ہفتے قبل بعض صوبائی وزراء کے قلمدان تبدیل کیے جانے کے بعد گزشتہ روز پھر سے 4 وزراء کے محکموں کے قلمدان تبدیل کردیے گئے ہیں۔ سینئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو سے محکمہ آبپاشی کا قلمدان واپس لے کر انہیں پھر سے محکمہ تعلیم کا قلمدان واپس دے دیا گیا ہے۔ جبکہ نثار کھوڑو کے پاس محکمہ اطلاعات کا اضافی چارج بھی رہے گا۔ اس طرح تقریباً ایک ہفتہ قبل صوبائی وزیر ورکس اینڈ سروسز شرجیل انعام میمن سے محکمہ آثار قدیمہ کے قلمدان کا اضافی چارج واپس لینے کے بعد گزشتہ روز پھر سے انہیں مذکورہ محکمے کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔ اس طرح پہلے ہی محکمہ خزانہ اور محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اور محکمہ توانائی کے قلمدان رکھنے والے سینئر صوبائی وزیر سید مراد علی شاہ کو محکمہ آبپاشی کے قلمدان کا اضافی چارج بھی دے دیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم کا قلمدان سنبھالنے سے انکار کرنے والے صوبائی وزیر ہزار خان بجارانی کو وزیر بے محکمہ بنادیا گیا ہے۔ جبکہ 2روز قبل صوبائی وزیر کی حیثیت سے حلف اٹھانے والے طارق مسعود آرائیں کو محکمہ کچی آبادی کا قلمدان دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں سندھ کابینہ کے وزراء میں گروپ بندی واضح ہوگئی اور وزراء اپنے قلمدان بچانے اور حاصل کرنے کی جنگ لڑتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ مقتدر حلقے اس صورتحال کو باریک بینی سے مانیٹر کررہے ہیں کہ سندھ میں گڈگورننس کے امور بہتر بنانے کے بجائے مختلف امور میں سیاسی اور غیرسنجیدہ انداز سے کام لیاجارہا ہے اور ایپکس کمیٹی سطح پر ہونے والے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد بھی نہیں کیاجارہا۔

Tags: