ایڈمنسٹریٹر بلدیہ کورنگی عہدے سے ہٹنے کے بعد دوبارہ تعینات

August 19, 2015 5:10 pm0 commentsViews: 23

سندھ حکومت نے وکاش چائولہ کو ایڈمنسٹریٹر تعینات کرکے احکامات منسوخ کردیے
کراچی(سٹی رپورٹر)حکومت سندھ نے محکمہ بلدیات میں افسران کی تعیناتی اور تبادلوں کو مذاق بنا دیاایڈمنسٹریٹر بلدیہ کورنگی قراۃالعین کو عہدے سے ہٹانے کے چند گھنٹے بعد دوبارہ تعینات کر دیا گیاوکاش چائولہ کو ایڈمنسٹریٹر کورنگی تعینات کر کے احکامات منسوخ کر دیئے گئے،ذرائع مطابق حکومت سندھ کے حکام نے ناقص کارکر دگی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کرنے کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ بلدیات کوفوری طور پر قراۃلعین میمن کو انکے عہدے سے ہٹا نے کی ہدایات جاری کیں جس پر کارراوئی کرتے ہوئے محکمہ بلدیات نے قراۃ العین میمن کو عہدے سے ہٹاکر ان کی جگہ گریڈ17کے وکاش چائولہ کو ایڈمنسٹریٹر بلدیہ کورنگی تعینات کر دیاذرائع کے مطابق قراۃ العین میمن نے ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ سنبھالتے ہی ادارے میں من مانیاں کرنا شروع کر دی تھیں۔ جس کی وجہ سے کورنگی لانڈھی شاہ فیصل ٹاون میں صفائی ستھرائی کی صورتحال نہایت ابتر ہوچکی ہے جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگ چکے ہیں سڑکوں اور گلیوں میں سیوریج کا پانی جمع ہونے کی وجہ سے وبائی امراض پھوٹ رہے ہیں۔جس کی نشاندھی گذشتہ کئی ماہ سے کی جارہی تھی تاہم گذشتہ روز سندھ حکومت کے اعلیٰ حکام نے محکمہ بلدیات کو ہدایت کی کہ قراۃالعین میمن کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا جائے جس کے بعد محکمہ بلدیات نے قراۃالعین میمن کو ہٹا کر وکاش چائولہ کو ایڈمنسٹریٹر کورنگی تعینات کرنے کے احکامات جاری کر دیئے تھے تاہم اس سلسلے میں سندھ حکومت کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ قراۃ العین میمن کو عہدے سے ہٹائے جانے پر وزیر بلدیات نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ناقص کارکردگی غفلت و لاپرواہی کا مظاہرہ کرنے کے باوجود قراۃالعین میمن کو دوبارہ ایڈمنسٹریٹر کورنگی تعینات کر دیا ۔

محکمہ لوکل ٹیکسز ضلعی بلدیاتی اداروں کے حوالے ہزاروں ملازمین کا مستقبل دائو پر لگ گیا
ایڈمنسٹریٹر کراچی نے بلدیہ عظمیٰ کے ٹکڑے کردیئے‘ محکمہ تعلیم اور کے ایم سی کی تمام ڈسپنسریاں بھی ڈی ایم سیز کو منتقل
اقدام سے مالی بحران کا شکار بلدیاتی اداروں کیلئے مزید ہزاروں ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی سنگین مسائل پیدا ہوں گے
کراچی(سٹی رپورٹر) اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے،ایڈمنسٹریٹر بلدیہ کراچی شعیب احمد صدیقی نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا،بلدیہ عظمیٰ کے لیئے سب سے زیادہ ریونیو حاصل کرنے وال محکمہ لوکل ٹیکسز ضلعی بلدیاتی اداروں کو دے دیا گیاجبکہ محکمہ تعلیم اور کے ایم سی کی تمام ڈسپینسریاں بھی ڈی ایم سیز کو منتقل کردی گئیں،منتقل کیے گئے محکموں سے وابسطہ ہزاروں ملازمین کا مستقبل دائو پر لگ گیا، مالی بحران کا شکار بلدیاتی اداروںکا مزید ہزاروں ملازمین کوتنخواہوں کی ادائیگی سے ان اداروں میں مالی بحران سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے،کراچی کے بلدیاتی اداروں میں سنگین مالی و انتظامی بحران کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ واضح رہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کا ریونیو حاصل کرنے کا اہم ترین محکمہ لوکل ٹیکسز (ایڈورٹائزمنٹ ) کو قرار دیا جاتا ہے جس سے تقریباً ایک ارب روپے بلدیہ کراچی کو ریونیو حاصل ہوتا ہے جس سے بلدیہ کراچی محروم ہوجائے گی جبکہ بلدیہ کراچی کا دوسرا اہم ترین ریونیو حاصل کرنے کا محکمہ ماسٹر پلان پہلے ہی بلدیہ کراچی سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو منتقل کیا جاچکا ہے موجودہ صورتحال میں بلدیہ کراچی کا ریونیو شدید متاثر ہونے کا امکان ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ایڈمنسٹریٹر کراچی شعیب احمد صدیقی اور ضلعی بلدیات کے ایڈمنسٹریٹرز کے مابین منعقدہ اجلاس میں اداروں کے درمیان وسائل، سرمایہ اور ذمہ داریوں کی تقسیم کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت محکمہ تعلیم کے ماڈل اسکول اور ایلیمنٹری کالجز کو بھی ضلعی بلدیات کو منتقل کیا گیا ہے جبکہ ڈی ایم سیز قانون کے مطابق اندرونی سڑکوں پر جارجز پارکنگ بھی نافذ بھی کرسکیں گی، جبکہ بلدیہ کراچی کے پاس صرف 18 بڑے اسپتال ہونگے جبکہ دیگر طبی ادارے ڈی ایم سیز کو منتقل کئے جائینگے۔

Tags: