اربوں روپے کی کرپشن،64 ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم،290 افسران کیخلاف تحقیقات

August 20, 2015 3:15 pm0 commentsViews: 26

اینٹی کرپشن کمیٹی کا چیف سیکریٹری سندھ کی زیر صدارت اجلاس، بد عنوانیوں کے58 کیسز کی تحقیقات کرنے کی منظوری
نیب سندھ نے میگا کرپشن اسکینڈلز میں ملوث این آئی سی ایل2 سابق چیئرمینوں اور دیگر افسران کیخلاف شواہد جمع کرنا شروع کر دیا
کراچی( کرائم ڈیسک) اربوں روپے کی کرپشن میں64 ملزمان کی گرفتاری کا حکم دے دیا گیا۔ جبکہ290 اعلیٰ افسران کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اینٹی کرپشن کمیٹی 1 نے کرپشن میں ملوث64ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے، جب کہ اہم منصبوں اور غیر قانونی ترقیاتی اخراجات کے فنڈز میں خرد برد کرنے سمیت دیگر سنگین قسم کی بد عنوانیوں کے58 کیسز کی تحقیقات کرنے کی منظوری دی ہے۔ اس کے علاوہ 36 مقدمات میں اوپن انکوائری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ 10 مقدمات کے بارے میں متعلقہ محکموں کو30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان امور سے متعلق فیصلے اینٹی کرپشن 1 اے سی سی 1 کے اجلاس میں کئے گئے۔ جو بدھ کو چیف سیکریٹری سندھ محمد صدیق میمن کی صدارت میں منعقدہ ہوا۔ اجلاس میں چیئر مین اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ سید ممتاز علی شاہ، محکمہ بلدیات، محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم کے سیکریٹریز اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ دوسری جانب حکومت سندھ کی جانب سے اربوں روپے کے میگا کرپشن اسکینڈل میں ملوث ہونے کے الزام میں نامزد کر دہ این آئی سی ایل کے دو سابق چیئر مین ایاز نیازی اور عابد جاوید، یوٹیلیٹی اسٹور کارپوریشن کے ڈپٹی ایم ڈی مسعود عالم نیازی، ٹی سی پی کے سابق چیئر مین عبدالمالک، نیشنل بینک کے سابق صدر علی رضا، سابق ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی منظور قادر کاکا، سابق سیکریٹری بدر میندھرو، بورڈ آف ریونیو کے دو سابق سیکریٹری خان محمد مہر اور غلام مصطفی بھل، سیکریٹری بلدیات علی احمد لونڈ، ڈی جی لیاری ترقیاتی اتھارٹی آغا مقصود، ملیر ترقیاتی اتھارٹی کے سابق ڈی جی امیر زادہ کو ہاٹی، سندھ یونیورسٹی کے سابق وی سی نذیر مغل اور سابق رجسٹرار نواز ناریجو سمیت290 اعلیٰ افسران کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اور ان کے خلاف شواہد جمع کئے جا رہے ہیں۔ ان تمام افسران پر درجنوں وفاقی اور صوبائی وزارتوں اور محکموں، کارپوریشنز سمیت دیگر خود مختار اداروں میں کرپشن کرنے، اختیارات کا ناجائز استعمال، من پسند افراد کو ٹھیکے دینے، غیر قانونی اثاثے بنانے، غیر قانونی طور پر بھرتیاں کرنے، غیر قانونی طور پر زمین الاٹ کرنے اور ٹیکس چوری سمیت دیگر قسم کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔

Tags: