متحدہ استعفے واپس لینے کیلئے تیار مولانا فضل الرحمن نے وزیراعظم نوازشریف کو آگاہ کردیا

August 20, 2015 3:24 pm0 commentsViews: 31

حکومت کی جانب سے ایم کیو ایم ارکان اسمبلی کے استعفوں کو تکنیکی بنیادوں پر مسترد کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا، ایم کیو ایم اور متعلقہ اداروں کو بھی آگاہ کردیا گیا
وزیراعظم ایم کیو ایم کے وفد سے ملاقات کے لیے تیار ہیں، مولانا فضل الرحمن نے فاروق ستار کو آگاہ کردیا، رشید گوڈیل کی حالت تشویشناک ہے، اس صورتحال میں مذاکرات نہیں ہوسکتے، فاروق ستار کا جواب، الطاف حسین نے کراچی آپریشن جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے،مولانا فضل الرحمن نے ملاقات میں وزیراعظم کو تمام حالات سے آگاہ کردیا
ایم کیو ایم کے اراکین اسمبلی سیکریٹریٹ سے رجوع نہیں کرتے تو استعفے از خود غیرموثر ہوجائیں گے، استعفوں کی منظوری کے حوالے سے سپریم کورٹ کی واضح رولنگ موجود ہے، ایم کیو ایم نے خود اپنے استعفوں میں احتجاجاً لکھا ہے اس لیے یہ استعفے رضاکارانہ نہیں ہیں، آئینی ماہرین نے استعفوں کو غیرموثر قرار دے دیاہے
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) جے یو آئی ( ف) کے سربراہ فضل الرحمن نے وزیر اعظم نواز شریف کو آگاہ کر دیا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ اپنے استعفے واپس لینے کیلئے تیار ہے۔ جبکہ الطاف حسین نے بھی کراچی آپریشن جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم ان کے کارکنوں کے گرفتار ہونے کے حوالے سے تحفظات ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے پیش رفت کو سراہتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنمائوں سے براہ راست ملاقات کیلئے تیار ہوگئے ہیں۔ دوسری طرف حکومت کی جانب سے ایم کیو ایم کے استعفوں کو تکنیکی بنیاد پر مسترد کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ بدھ کو وزیر اعظم نواز شریف سے جمعیت علماء اسلام ( ف) کے سربراہ فضل الرحمن نے یہاں ایوان وزیر اعظم میں ملاقات کی۔ ملاقات میں کراچی آپریشن پر مانیٹرنگ کمیٹی کے قیام اور ملکی سیاسی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ فضل الرحمن نے وزیر اعظم کو آگاہ کیا کہ ایم کیو ایم استعفے واپس لینے کو تیار ہے تاہم ان کے کارکنوں کے گرفتار ہونے کے حوالے سے تحفظات ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ حکومت مفاہمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے، کراچی آپریشن جرائم پیشہ افراد اور دہشت گردوں کے خلاف کیا جا رہا ہے، چاہتے ہیں کہ ایم کیو ایم کے ارکان اپنے استعفے واپس لے لیں۔ فضل الرحمن نے وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے اور قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والے رکن قومی اسمبلی رشید گوڈیل کی خیریت دریافت کی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے ہونے والی ملاقات میں پیش رفت کے بارے میں فاروق ستار کو آگاہ کیا۔ فضل الرحمن نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف ایم کیو ایم کے مطالبے پر متحدہ وفد سے ملاقات کیلئے تیار ہیں۔ تاہم فاروق ستار نے کہا کہ رشید گوڈیل پر قاتلانہ حملہ باعث تشویش ہے۔ ابھی ان کی حالت تشویشناک ہے۔ اس صورتحال میں مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں رہنمائوں نے اتفاق کیا ہے کہ رشید گوڈیل کی صحت بہتر ہوتے ہی اسلام آباد میں دوبارہ مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا۔ وزیر اعظم سے ملاقات میں فضل الرحمن نے بتایا کہ اگر رشید گوڈیل پر حملہ نہ ہوتا تو وہ ایم کیو ایم کے ارکان کو اپنے ساتھ اسلام آباد لے کر آتے۔ فضل الرحمن نے ایم کیو ایم کے9 تحفظات کی فہرست بھی وزیر اعظم کو پیش کی اور بتایا کہ مذاکرات کے دوران ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سے دو بار ٹیلی فون پر بات ہوئی۔ ان پر واضح کیا کہ کراچی آپریشن نہیں رکے گا۔ جس پر الطاف حسین نے بھی کہا کہ وہ کراچی آپریشن رکوانا نہیں چاہتے، تاہم آپریشن کے دوران ایم کیو ایم سے ہونے والی نا انصافیوں کا تدراک چاہتے ہیں۔ علاوہ ازیں باوثوق ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کی جانب سے احتجاجاً دئیے جانے والے استعفے تکنیکی بنیادوں پر مسترد کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ اور ان تکنیکی وجوہات سے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ، حکومت، ایم کیو ایم اور متعلقہ اداروں کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اسمبلی سیکریٹریٹ سے معلوم ہوا ہے کہ سپریم کور ٹ ظفر علی شاہ کیس 2015ء میں اپنے ایک فیصلہ میں کلاز17 کے تحت واضح کر چکی ہے کہ استعفوں کی منظوری کیلئے تین اقدام اسپیکر کی آئینی ذمہ داری ہے۔ اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے ایم کیو ایم کے استعفوں سے متعلق ایک واضح موقف تیار کیا گیا ہے۔ دوسری جانب خود ایم کیو ایم کے استعفوں میں احتجاج کا لفظ شامل کیا گیا ہے جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اراکین اسمبلی کے یہ استعفے رضا کارانہ نہیں اور وہ کسی کے کہنے پر اپنی پارٹی پالیسی کے تابع دے رہے ہیںلہٰذا اس پر کیسے اطمینان کیا جا سکتا ہے؟ اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق استعفوں کی منظوری کے عمل پر عملاً پیشرفت اس لئے نہیں ہو رہی کیونکہ خود ایم کیو ایم نے اپنے استعفوں کو قبول کرنے کیلئے سیکریٹریٹ سے رجوع نہیں کیا۔ اسمبلی سیکریٹریٹ نے یہ بھی واضح کر دیاکہ اگر ایم کیو ایم کے اراکین اسمبلی سیکریٹریٹ سے رجوع نہیں کرتے تو استعفے از خود غیر موثر ہوجائینگے۔ دریں اثناء اسلام آباد اور کراچی کے درمیان جاری سیاسی ڈپلومیسی کے بعد اس امر کا قوی امکان ظاہر کیا جار ہا ہے کہ ایم کیو ایم یہ استعفے واپس لے لے گی اور اعلان چند روز میں متوقع ہے۔

Tags: