ودہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ بینکوں کے ڈپازٹس میں 194 ارب روپے کی کمی

August 20, 2015 3:36 pm0 commentsViews: 18

کاروباری طبقے کی جانب سے بینکوں میں رقم جمع کرانے کے بجائے نقد رقم، بانڈز اور وعدوں کی رسیدوں سے کام چلایاجارہا ہے
انفرادی اکائونٹس سے بھی رقوم نکلوانے کا سلسلہ جاری، تنخواہ دار طبقے نے بھی ایک ماہ میں 19 ارب روپے نکلوالیے
کراچی( نیوز ڈیسک) بینکوں سے رقوم نکلوانے پر ود ہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ نے پاکستان کی بینکنگ انڈسٹری کو مشکلات سے دوچار کردیا ہے‘ ایک ماہ کے دوران بینکوں کے مجموعی ڈپازٹس میں194 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی ہے‘ نجی کاروباری شعبے کے ذرائع نے بتایا کہ کاروباری طبقہ کی جانب سے نہ صرف بینکوں میں رقوم جمع کرانے کا رجحان کم ہورہا ہے بلکہ بینکوں کے ذریعے لین دین کے بجائے نقد‘ بانڈز اور وعدے کی رسیدوں کے ذریعے کام چلایا جارہا ہے جن کی وجہ سے بینکوں کے ڈپازٹس میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے‘ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق جون2015 ء کے مقابلے میں جولائی2015 ء کے دوران مجموعی بینک ڈپازٹس 194 ارب روپے تک کم ہوئے ہیں جون کے اختتام پرڈپازٹس کی مجموعی مالیت 9153 ارب روپے تھی جو جولائی کے اختتام پر8959 ارب روپے کی سطح پر آچکی ہے‘ اعداد وشمار کے مطابق نجی کاروبار کرنے والوں نے ایک ماہ کے دوران بینک اکائونٹس سے132 ارب روپے کی رقوم نکلوالیں‘ ود ہولڈنگ ٹیکس کٹوتیوں نے کاروباری طبقے کے ساتھ انفرای اکائونٹس سے بھی رقوم نکلوانے کا سلسلہ جاری ہے‘ جولائی کے مہینے میں انفرادی کھاتے داروں نے بھی اپنے کھاتوں سے109 ارب روپے کی رقوم نکلوالئے اور انفرادی کھاتے داروں کے مجموعی ڈپازٹس4628 ارب روپے سے کم ہو کر4519 ارب روپے کی سطح پر آگئے‘ تنخواہ دار طبقے نے اپنے کھاتوں میں رکھی رقوم میں سے ایک ماہ کے دوران 19 ارب روپے نکلوائے‘ سیلف ایمپلائڈ افراد نے اپنے کھاتوں سے34 ارب روپے نکلوائے جبکہ گھریلو خواتین‘ طلبہ اور دیگر متفرق انفرادی کھاتے داروں نے اپنے اکائونٹس سے57 ارب روپے نکلوالئے۔

Tags: