کراچی میں مسلح جتھوں اور نجی ملیشیاء کیخلاف کارروائی ہوگی‘ نواز شریف

August 21, 2015 3:55 pm0 commentsViews: 21

آپریشن کسی قیمت پر بند نہیں ہوگا‘ جرائم کے مکمل خاتمے اور قیام امن تک آپریشن جاری رہے گا‘ متحدہ استعفے واپس لے
رشید گوڈیل پر حملے کے ملزمان جلدپکڑے جائیں گے‘ حملے کی فوٹیج لندن بھیجی جائے گی‘ کراچی میں اجلاس سے خطاب
کراچی( اسٹاف رپورٹر) وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ کراچی آپریشن کسی قیمت پر بند نہیں ہوگا بلکہ یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک یہاں مکمل امن قائم نہیں ہوجاتا۔ ایپکس کمیٹی کی مشاورت سے کراچی آپریشن کو مزید تیز کرنے اور قیام امن کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ دہشت گرد تنظیموں کے مالی نیٹ ورکس کو بھی ختم کرنے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز کے خلاف بھی کارروائی جاری ہے۔ دہشت گرد تنظیموں کے سہولت کاروں، مالی معاونین اور رابطہ کاروں کے خلاف بھی آپریشن کو مزید تیز کیا جائے گا اور ان کی سرپرستی کرنے والے سیاسی اور غیر سیاسی عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ مسلح جھتوں کے خلاف بھی جلد کارروائی شروع ہونے والی ہے اور نجی ملیشیا کے خلاف بھی آپریشن شروع ہونے والا ہے۔ کراچی آپریشن کسی قیمت پر بند نہیں ہوگا اور قومی ایکشن پلان پر عملدر آمد میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو گورنر ہائوس میں امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب، ایٹمی بجلی گھر کے توسیع منصوبے کینپ ٹو کی افتتاحی تقریب سے خطاب، مقامی ہوٹل میں پارسی کمیونٹی کی تقریب سے خطاب اور گورنر ہائوس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کراچی آپریشن کسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہے جو بلا تفریق جاری رہے گا۔کراچی سے جب تک جرائم کا مکمل خاتمہ اور امن قائم نہیں ہوجاتا اس وقت تک آپریشن جاری رہے گا۔ توانائی کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کراچی میں جوہری توانائی کے دو نئے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ جس سے2200 میگا واٹ بجلی حاصل ہوگی جبکہ کراچی میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے پلانٹ بھی لگائے جائیں گے۔ سیاسی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے نواز شریف نے ایم کیو ایم سے کہا کہ وہ اپنے ارکان کے استعفے واپس لے اور پارلیمنٹ میں آکر اپنا سیاسی جمہوری کردار ادا کرے مولانا فضل الرحمن سے کہا کہ وہ ایم کیو ایم سے بات کریں۔ امن و امان کے اجلاس میں وزیر اعظم نے کہا کہ ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی رشید گوڈیل پر قاتلانہ حملہ کے ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے۔ اجلاس میں رشید گوڈیل پر قاتلانہ حملے کی ابتدائی رپورٹ سے وزیر اعظم کو آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ وہاں پر موجود سی سی ٹی وی کیمروں سے حاصل کی گئی فوٹیج غیر واضح ہے جس کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے غیر ملکی ماہرین کی مدد لی جائے گی۔ اور اس کو لندن بھیجا جائے گا۔

Tags: