سپریم کورٹ ہورڈنگز اور سائن بورڈز 26 اگست تک ہٹانے کا حکم

August 21, 2015 4:45 pm0 commentsViews: 56

فٹ پاتھوں پر بل بورڈ نظر نہیں آنے چاہئے‘ بارشوں میں سائن بورڈ گرنے سے سینکڑوں لوگ مرجاتے ہیں‘ سب پیسے کے پیچھے پاگل ہورہے ہیں
آرمی کے لئے مختص اراضی پر اسٹور اور کاروباری مراکز کھولے جارہے ہیں‘ پولیس کو کمانا ہے تو پلازے بنائے اور کاروبار شروع کرے‘ عدالتی ریمارکس
کراچی( اسٹاف رپورٹر) سپریم کورٹ نے کراچی بھر کے فٹ پاتھ پر نصب ہورڈنگز اور سائن بورڈز 26 اگست تک ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ جمعرات کو جسٹس انور ظہیر جمالی اور جسٹس ہانی مسلم لی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے کراچی کنٹونمنٹ بورڈ میں نصب ہورڈنگز اور بل بورڈز سے متعلق درخواست کی سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سماعت کی۔ سماعت کے کے موقع پر سول ایوی ایشن کراچی کنٹونمنٹ، رینجرز اور کوسٹ گارڈ کے نمائندے عدالت میں موجود تھے، اس موقع پر رینجرز کے لاء آفیسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ رینجرز نے کسی بل بورڈ کو لگانے کی اجازت نہیں دی۔ سماعت کے موقع پر کے ایم سی کے نمائندے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ صرف گرین بیلٹ پر بل بورڈ لگائے گئے ہیں جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ ہمیں فٹ پاتھ پر بل بورڈ نظر نہیں آنا چاہئے اور گرین بیلٹ پر لگے بل بورڈ فٹ پاتھ پر آتے ہیں جبکہ بارش کے دوران سیکڑوں بورڈ گرتے ہیں جس کے نتیجے میں درجنوں افراد مر جاتے ہیں۔ سب پیسے کے پیچھے پاگل ہو رہے ہیں آرمی کیلئے مختص کی جانے والی اراضی پر اسٹورز اور کاروباری مراکز کھولے جا رہے ہیں اگر انہیں یہی کام کرنا ہے تو عام لوگوں کو کام کرنے سے منع کر دیں۔ عدالت نے ڈی آئی جی ایڈمن آصف رزاق سے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت تھانوں میں بل بورڈز لگائے گئے ہیں جس پر ڈی جی ایڈمن آصف رزاق نے عدالت کو بتایا کہ بل بورڈز کی آمدنی سے ویلفیئر کا کام لیا جاتا ہے جس پر عدالت کا کہنا ہے کہ پولیس کو کمانا ہے تو پلازے بنائیں اور کاروبار شروع کر دیں۔

Tags: