الطاف حسین کے خطابات پر پابندی

August 21, 2015 5:11 pm0 commentsViews: 20

متحدہ کا آج پریس کلب کے باہر بڑے احتجاجی مظاہرے کا اعلان
براہ راست خطابات پر پابندی کے بعد اب ریکارڈ پروگرام بھی نہ دکھانے کی ہدایت کی گئی ہے جس کیخلاف عدالت سے رجوع کرینگے
وزیر اعظم نواز شریف ہمارے سوالوں کے جواب دیئے بغیر واپس چلے گئے‘ فاروق ستار اور دیگر رہنمائوں کا پریس کانفرنس سے خطاب
کراچی( اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے پیمرا کی جانب سے الطاف حسین کے براہ راست خطابات پر غیرقانونی پابندی کیخلاف آج سہ پہر3بجے پریس کلب کے باہر زبردست اور بڑے احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا ہے‘ انہوں نے کہا کہ حکومت اور پیمرا کی جانب سے الطاف حسین کے براہ راست خطاب پر پابندی عائد کرنے کے بعد اب ان کے ریکارڈ پروگرام کو ٹیلی ویژن پر روکنے کا معاملہ عدالت میں چیلنج کرنے جارہے ہیں‘ پیمرا کے نوٹیفکیشن میں کہیں پر بھی قائد تحریک الطاف حسین کا نام نہیںہے اور اس نوٹیفکیشن میں کہیں الطاف حسین کے لائیو خطابات اور تقاریر پر پابندی لگانے کا کوئی حکم نہیںہے‘ انہوں نے وفاقی حکومت اور پیمرا کی جانب سے الطاف حسین کی تقاریر کو براہ راست نشر کرنے پر پابندی عائد کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آئین کے آرٹیکل6 کی صریحاً خلاف ورزی قرار دیا انہوں نے وزیراعظم نوازشریف کے دورہ کراچی پر افسوس کااظہار کیا اور کہا کہ وہ ہمارے مسائل اور نکات کا جواب دیئے بغیر چلے گئے‘ ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کی شام خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر کہف الوریٰ ‘شاہد پاشا‘ اراکین رابطہ کمیٹی عبدالحسیب‘ اسلم خان آفریدی‘ شبیر قائم خانی‘ کمال ملک‘ محمد حسین ‘ عارف خان‘ زریں مجید‘ ریحانہ نسرین اور عبدالقادر خانزادہ کے ہمراہ پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم نے آئین کے بنیادی نکات ایوان اور ایوان سے باہر مسلسل اٹھائے لیکن افسوس صد افسوس وزیراعظم پاکستان دورہ کراچی پر ہمارے ان سوالوں کا جواب دیئے بغیر روانہ ہوگئے‘ انہوں نے کہا کہ سیاسی و جمہوری عمل اسی وقت مضبوط و مستحکم ہوسکتاہے جب صحیح معنوں میں آئین کی بالا دستی کو ملک میں قائم کیاجائے اور قانون کی حکمرانی اور قانون کی عملداری کا پاس کیا جائے۔

Tags: