کراچی سمیت 4بڑے شہروں میں دہشت گردی کے منصوبے ناکام

August 22, 2015 2:15 pm0 commentsViews: 24

سیاسی و عسکری قیادت نے نیشنل ایکشن پلان کا اگلا مرحلہ شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا، کراچی کی طرح دیگر شہروںمیں بھی امن تباہ کرنے والوں کا پیچھا کیاجائے گا
کراچی کے علاقے ناظم آباد میں چائولہ مارکیٹ کے قریب کھڑی گاڑی سے کلاشنکوف کی 9 ہزار گولیاں برآمد،گاڑی10روز سے کھڑی ہوئی تھی، سیکورٹی اداروں نے مالک کی تلاش شروع کردی، جلد اہم گرفتاریوں کا امکان ہے
اسلام آباد ،لاہوراورپشاور میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنادیے، سانحہ اٹک میں ملوث دہشت گردبھی پکڑے گئے، ایک ملزم شیرٹن بم حملے میں بھی ملوث ہے،سیکورٹی ذرائع
وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان دہشت گردوں کے خلاف خفیہ آپریشن مزید تیز کرنے پراتفاق، بلاامتیاز کارروائیاں کی جائیں گی، کالعدم تنظیموں کے خلاف بھی ایکشن تیزکیاجائے گا
کراچی(کرائم ڈیسک/نمائندہ خصوصی)سیاسی وعسکری قیادت نے نیشنل ایکشن پلان کا اگلا مرحلہ فوری طور پر شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ کراچی کی طرح دوسرے شہروں میں بھی امن تباہ کرنے والوں کا پیچھا شروع کردیا گیا۔ سیکورٹی فورسز نے کراچی سمیت 4 بڑے شہروں میں دہشت گردی کے منصوبے ناکام بنادیے۔ کراچی کے علاوہ اسلام آباد، لاہور اور پشاور سے دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی کے علاقے ناظم آباد کی چائولہ مارکیٹ میں کھڑی گاڑی سے کلاشنکوف کی 9 ہزار سے زائد گولیاں برآمد کرلی ہیں۔ ڈی آئی جی ویسٹ کے مطابق اہل علاقہ کی اطلاع پر 10 روز سے کھڑی گاڑی کی تلاشی بم ڈسپوزل اسکواڈ نے لی جس سے گولیوں کے 24 ڈبے برآمد ہوئے ہیں۔ پولیس کار کے مالک کو تلاش کررہی ہے۔ ایس پی لیاقت آباد کے مطابق گاڑی کی نمبر پلیٹ جعلی ہے۔ رینجرز اہلکاروں نے برآمد ہونے والی گولیاں تحویل میں لے لی ہیں۔ سیکورٹی اداروں کے مطابق یہ گولیاں یقینا کراچی میں تخریب کاری اور ٹارگٹ کلنگ کے لیے لائی گئی ہوں گی۔ پولیس نے ان دہشت گردوں کی تلاش شروع کردی ہے جو یہ گولیاں شہر میں لانے کے ذمہ دار ہیں۔ جبکہ کار کے مالک کو بھی تیزی سے تلاش کیا جا رہاہے تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں۔ دوسری طرف وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ایف ایٹ میں محکمہ انسداد دہشت گردی پنجاب اور رینجرز نے مدرسے میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے سانحہ اٹک میں ملوث 3 دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا۔ گرفتار ملزمان میں قاری امداد، قاری ارشاد اور شوکت شامل ہیں جو راولپنڈی کینٹ کے علاقے ڈھوک چوہدریاں کے رہائشی ہیں۔ گرفتار دہشت گردوں کو مزید تحقیقات کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق انتہائی مطلوب دہشت گرد مطیع الرحمن بھی حملے میں ملوث ہے۔ مطیع الرحمن 2003ء میں پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے، سابق وزیراعظم شوکت عزیز اور کراچی میں شیرٹن ہوٹل پر خودکش حملے میں بھی ملوث ہے۔ لاہور میں چنگی ویگج انڈر پاس رنگ روڈ کے علاقے سے ایک مشتبہ دہشت گرد کو گرفتار کرلیا گیا جس کے قبضے سے دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے جو دہشت گردی کی کارروائی کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ موقع پر پہنچ گیا اور دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنادیا گیا جبکہ مشترکہ دہشت گرد کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔ پشاور میں اسپیشل پولیس یونٹ نے کارروائی کرتے ہوئے حاجی کیمپ کے علاقے سے دہشت گرد عبدالوحید کو گرفتار کرلیا جس کے قبضے سے ایک ریموٹ کنٹرول بم برآمد ہوا ہے جو ایک واٹر کولر میں نصب کیا گیا تھا۔ گرفتار دہشت گرد کا تعلق ایک انٹرنیشنل دہشت گرد تنظیم سے ہے۔ ملزم قانون نافذ کرنے والے اداروں کو 6 دہشت گرد حملوں اور 42 افراد کے قتل کی وارداتوں میں مطلوب ہے۔ علاوہ ازیں اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سیاسی وعسکری قیادت نے نیشنل ایکشن پلان کا اگلا مرحلہ فوری طور پر شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا، کراچی کی طرح دیگر شہروں میں بھی امن وامان تباہ کرنے والوں کو پیچھا کیا جائے گا، دہشت گردوں کیخلاف خفیہ آپریشن تیز کیا جائے گا، ایکشن پلان کے تحت بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی، پنجاب میں بڑے پیمانے پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کی جائے گی، وزیراعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت جمعہ کو اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں ملک میں داخلی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد پر تبادلہ خیال کیا گیا، اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف، وفاقی وزراء اسحق ڈار، چوہدری نثار علی خان، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف ، قومی سلامتی و خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز معاون خصوصی طارق فاطمی اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت بلا امتیاز کارروائیاں کی جائیں گی، دہشت گردوں کیخلاف خفیہ آپریشن شروع کیا جائے گا کراچی کی طرح دیگر شہروں میں بھی امن وامان تباہ کرنے والوں کا پیچھا کیا جائے گا، ذرائع نے بتایا کہ قومی اسمبلی سینیٹ سپریم کورٹ ، ایوان صدر اور دیگر اداروں میں کئی سالوں سے تعینات پولیس اہلکاروں کی ویری فکیشن کرانے کے امور بھی زیر غور آئے۔

Tags: