ایک ارب روپے کی بے ضابطگیاں

August 22, 2015 4:11 pm0 commentsViews: 19

وزیر اعلیٰ سمیت ذمہ دار افسران کیخلاف کارروائی کی سفارش
سرکاری افسران کا غیر ذمہ دارانہ رویہ برداشت نہیں کیا جائے گا‘ سکھر ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے مالی سال 2010-11 کی آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لینے کیلئے اجلاس
پبلک اکائونٹس کمیٹی کے سیکریٹری محکمہ بلدیات سمیت بعض افسران کی اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر اظہار برہمی
کراچی( اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی نے ڈیفنکٹ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ سکھر کے مالی سال 2010-11 کے اخراجات میں ایک ارب روپے کی بے ضابطگیوں کا ریکارڈ پیش نہ کرنے پر وزیر اعلیٰ سندھ اور چیف سیکریٹری سندھ کوذمہ دار متعلقہ افسران کیخلاف کارروائی کرنے کی سفارش کی ہے‘چیئرمین پبلک اکائونٹسکمیٹی سرکاری افسران کا غیر ذمہ دارانہ رویہ برداشت نہیں کریگی‘ یہ با ت انہوں نے جمعہ کو ڈیفنکٹ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ سکھر کے مالی سال2010-11 کے اخراجات سے متعلق آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لینے کیلئے بلائے گئے پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان خیر النساء مغل‘ نند کمار اور سید سردار شاہ بھی شریک تھے‘ پبلک اکائونٹس کمیٹی نے اجلاس میں سیکریٹری محکمہ بلدیات سمیت بعض افسران کی اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر بھی برہمی کااظہار کیا‘ چیئرمین سلیم رضا جلبانی نے اپنے اسٹاف کو ہدایت کی کہ وزیراعلیٰ سندھ اور چیف سیکریٹری سندھ کو خط لکھ کر ان افسران کیخلاف کارروائی کی سفارش کی جائے‘ اجلاس میں پبلک اکائونٹس کمیٹی نے ڈسٹرکٹ گورنمنٹ سکھر کے سال دو ہزار دس اور گیارہ کے مالی اخراجات میں ایک ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں پر موجودہ افسران سے جواب طلبی کی‘ اجلاس میں موجود ڈپٹی کمشنر سکھر شہزاد فضل عباسی اور چیف انجینئر ورکس کے تعاون نہ کرنے پر اپنی بے بسی کااظہار کیا اور مکمل ریکارڈ پیش نہ کرنے پر معذرت کی‘ پبلک اکائونٹس کمیٹی نے افسران کے رویے پر سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سکھر کو ہدایت کی کہ 27 اگست تک غفلت برتنے والے افسران کیخلاف کارروائی کرکے مکمل رپورٹ پیش کی جائے‘ قبل ازیں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے رکن پبلک اکائونٹس کمیٹی نند کمار نے افسران پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر افسران اکائونٹس کمیٹی کو اہمیت نہیں دیتے تو پھر ان کا کمیٹی میں رہنے کا کوئی جواز نہیں رہتا اور وہ کمیٹی کی رکنیت سے مستعفی ہوجائیں۔

Tags: