شہر میں دودھ کا مصنوعی بحران ملاوٹ شدہ دودھ کی فروخت

August 22, 2015 4:19 pm0 commentsViews: 312

تھوک کی سطح پر دودھ کی ساڑے 37 روپے فی لیٹر قیمت 4 ہزار سے تجاوز کرگئی‘ پابندی کے باعث بوسٹن انجکشن کی بلیک میں فروخت
قیمتوں میں 3 گنا اضافہ‘ ڈیری مافیا کی من مانیاں‘ دودھ منڈی میں لانے کی بجائے دیگر شہروں میں سپلائی ہونے لگا
کراچی( کامرس رپورٹر) ڈیری مافیا نے دودھ کا مصنوعی بحران پید اکر دیا ہے۔ تھوک سطح پر دودھ کی فی37.5 لیٹر قیمت 4 ہزار روپے سے تجاوز کر گئی ہے جس کی وجہ سے چھوٹے دکاندار ملاوٹ شدہ دودھ فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب بھینسوں کو لگائے جانے والے بوسٹن انجکشن پر پابندی لگنے سے بھینس کالونی میں بوسٹن انجکشن کی قیمت میں3گنا اضافہ ہوگیا۔ پابندی کے باوجود بھینس کالونی میں بوسٹن انجکشن بلیک میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ بوسٹن انجکشن کی سپلائی کے معاملے پر ڈاکٹر اور چوہدری میں جاری رسہ کشی ڈیری فارمز کے گلے کی ہڈی بن گئی ہے۔ ڈیری مافیا کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بڑے تھوک فروشوں نے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کیلئے شہر میں دودھ کا مصنوعی بحران پیدا کر دیا ہے۔ کراچی کے بجائے دودھ سندھ کے مختلف شہروں اور گوادر تک سپلائی کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے تھوک سطح پر قیمتوں میں اضافے کا رجحان ہے۔ کراچی کے لئے سپلائی ہونے والا دودھ شہر کی مرکزی تھوک منڈی لی مارکیٹ میں لانے کے بجائے بالا ہی بالا دیگر شہروں کو سپلائی کیا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے مصنوعی قلت پیدا ہو رہی ہے۔

Tags: