فائر ٹینڈرزکے مرمتی ٹھیکے میں سالانہ 2 کروڑکی کرپشن کا انکشاف

August 24, 2015 5:47 pm0 commentsViews: 28

پر زوں کی تبدیلی اور مرمتی کام میں جعلسازی کرکے کروڑوں روپے کمائے گئے کروڑوں کا اسکریپ بھی ٹھکانے لگادیاگیا
بلدیہ عظمیٰ کراچی کے سینئر ڈائریکٹر کی مبینہ ملی بھگت سے چار سال سے ٹھیکہ ایک ہی کمپنی کو دیا جارہا ہے‘ تحقیقات سے بچنے کیلئے ڈائریکٹر بیرون ملک چلے گئے
کراچی(سٹی رپورٹر)محکمہ میونسپل سروسز کے اعلیٰ افسر اور ٹھیکیدارکی ملی بھگت ،بلدیہ عظمیٰ کراچی میں فائر ٹینڈرزکے مرمت کے ٹھیکے میں سالانہ 2کروڑ روپے کی کرپشن کا انکشاف، فائر ٹینڈرزکے مرمتی کام اور پرزوں کی تبدیلی میںمبینہ جعلسازی کر کے کروڑوں روپے خرد برد کیے گئے جبکہ سروسز وہیکل سے نکلنے والا کروڑوں روپے کا اسکریپ ٹھکانے لگادیا گیا،گاڑیوں کی مرمت میں قوائدکو مکمل طور پر نظر انداز کر کے ٹھیکیدار کو فائدہ پہنچایا گیا،بغیر ٹینڈر کئیسینئر ڈائریکٹر کی ملی بھگت سے کروڑوں روپے کا ٹھیکہ گذشتہ 4سال سے ایف آر سی نامی کمپنی کو دیا جا رہا ہے،شعیب صدیقی نے مسعود عالم کو ممکنہ تحقیقات سے بچانے کے لئے رخصت پربیرون ملک بھیج دیا، تفصیلات کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ میونسپل سروسز کے سینئر ڈائریکٹر کی مبینہ ملی بھگت سے فائر ٹینڈرز اور سروسسز وہیکل کی مرمت کا ٹھیکہ گذشتہ 4سال سے بغیر ٹینڈرکرائے ایف آر سی نامی کمپنی کو دیا جارہا ہے محکمہ میونسپل سروسز کے قریبی ذرائع کے مطابق محکمہ کے میونسپل ڈائریکٹر 5کروڑ روپے مالیت کا سالانہ گاڑیوں کے مرمتی کام کا ٹھیکہ مبینہ طور پر بھاری کمیشن کے عوض اپنے قریبی دوست کو بغیر ٹینڈر کئے دے رہے ہیںذرائع کا کہنا ہے کہ مسعود عالم کے 2007میں ای ڈی او میونسپل سروسز بننے کے بعد ایف آر سی کو ایک منصوبے کے تحت وجود میں لایاگیا جس کے بعدسے مذکورہ کمپنی کو 5کروڑ روپے میں سروسز وہیکل کے مرمتی کا م کا ٹھیکہ دیا جارہا ہے جس میں مبینہ طور پر سینئر ڈائریکٹر کی ملی بھگت سے گاڑیوں کی مرمت کی آڑ میں کروڑوں روپے سالانہ گذشتہ 4سال سے خرد برد کیے جارہے ہیں ذرائع کے مطابق گاڑیوں کی مرمت کے ٹھیکے میں گاڑیوں کی ماہانہ سروس ٹیونگ،آئل کی تبدیلی،خراب ٹائروں کی تبدیلی ،خراب گاڑیوں کی مرمت اور پرزوں کی تبدیل کرنا شامل ہے تاہم مذکورہ کمپنی بلدیہ عظمیٰ سے کیے گئے معاہدے پر عمل درآمد نہیں کر رہی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ ٹھیکیدار محکمے کے افسران کے ساتھ ملی بھگت سے گاڑیوں کے قیمتی صحیحپرزوں کا خراب ظاہر کیا جاتا ہے جس کے بعد پرزہ جات تبدیل کیے بغیر ہی نئے پرزوںکی قیمت وصول کی جاتی ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق کسی بھی گاڑی کو مرمت کرانے سے قبل اس گاڑی کا اسٹیشن کے روزنامچے میں اندارج کرانا ضروری ہے جس میں گاڑی کی خرابی پرزہ جات کی تبدیلی سمیت دیگر ضروری کاموں کا اندارج کیا جاتا ہے جس پر اسٹیشن آفیسر دستخط کر تا ہے تاہم مسعود عالم قوائد کو بالائے طاق رکھ کر بغیراندارج کرائے گاڑیوں کو مرمت کے لئیبھیج دیتے ہیں ذرائع نے بتایا کے سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کے دور میں ایف آر سی کمپنی کے قیام سے قبل محکمہ کے سینئر ڈائریکٹر مسعود عالم نے مبینہ طور پر عاطف نامی شخص سے ملی بھگت کر کے 1لاکھ سے 5لاکھ روپے میںفائر ٹینڈرز کی مرمتی کام کا ٹھیکہ مذکورہ شخص کی کمپنی کو دیا گیاجس کے بعد مذکورہ ٹھیکیدار نے فائر ٹینڈرز کے رنگ میں تبدیلی کر کے فائر ٹینڈرز کے سرخ رنگ کے ساتھ سفید رنگ کا اضافہ اور گاڑیوں کی سروس اور ٹیونگ کرکے مرمت کے نام پر کروڑوں روپے ٹھکانے لگائے جبکہ گاڑیوں کو رنگ روغن کرنے کے دوران محکمے کے اعلیٰ افسر کی ملی بھگت سے تمام فائر ٹینڈرز کے اصل اسٹیل کے بمپرز ،سیفٹی گرل ،بیٹریزاور گاڑیوں پر نصب2لاکھ روپے مالیت کے 5KVکے جنریٹرز کو اسکریپ ظاہر کر کے نکال دیا گیا اور ان کی جگہ فائبر کے بمپرز لگادیئے گئے جبکہ گاڑیوں سے نکالا گیا کروڑوں روپے کا سامان مبینہ طورفروخت کر دیا گیا ذرائع کا کہنا ہے کہ چند سال پہلے گلستان فائر اسٹیشن کا میدان گاڑیوں کے قیمتی پرزہ جات سے بھرا پڑا تھا جس کی مالیت کروڑوں روپے تھی وہ تمام سامان ملی بھگت کر کے فروخت کیا جاچکا ہے تاہم محکمہ یہ بتانے سے گریزاںہے کہ کس کی اجازت سے اسکریپ فروخت کیا گیا اور اسکریپ سے حاصل ہونے والی رقم کس کھاتے میں جمع کرائی گئی۔

Tags: