کراچی میں 301 مخدوش عمارتوں کے اچانک زمین بوس ہونے کے خطرات

August 25, 2015 12:53 pm0 commentsViews: 26

خطرناک عمارتوں کے مکینوں‘ دکانداروں کو فی الفور خالی کرانے کے لئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ہدایات‘ جانی و مالی نقصانات‘ خدشات سے عوام کو آگاہ کردیا گیا
صدر ٹائون 1 کی 188 ‘ صدر ٹائون 2 میں 48 ‘ جمشید ٹائون 11 ‘ لیاری 21‘لیاقت آباد18 ‘ کیماڑی‘ بلدیہ ٹائون‘ شاہ فیصل‘ گلشن اقبال‘ گلبرگ‘ کورنگی‘ نارتھ ناظم آباد اور سائٹ کی عمارتیں خطرناک قرار دے دی گئیں
کراچی( اسٹاف رپورٹر) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی ٹیکنیکل کمیٹی برائے خطرناک عمارت کے حالیہ سروے کے نتیجے میں مزید کئی عمارتوں کو خطرناک قرار دیا گیا ہے جس کے بعد اب خطرناک عمارتوں کی تعداد301 ہوگئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ممتاز حیدرکی ہدایات پر ماہرین تعمیرات و انجینئرز پر مشتمل ٹیکنیکل کمیٹی کی جانب سے شہر بھر کی کئی مخدوش حالت عمارتوں کے معائنہ کا سلسلہ جاری ہے۔ قبل ازیںخطرناک قراردی گئی عمارتوں کی تعداد288 تھی تاہم حالیہ سروے کے نتیجے میں ان کی تعداد301 ہوگئی ہے جبکہ فہرست میں شامل عمارتوں کے علاقے کی مناسبت سے صدر ٹائون 1 کی 188، صدر ٹائون 2 میں 48 خطرناک عمارتیں واقع ہیں جبکہ بالترتیب جمشید ٹائون میں 11 لیاری کی 21، لیاقت آباد میں 18، کیماڑی 3، بلدیہ ٹائون 3، ملیر ٹائون 2 ، شاہ فیصل ٹائون 2 جبکہ گلشن اقبال، گلبرگ، کورنگی، نارتھ ناظم آباد اور سائٹ ٹائون کی ایک ایک عمارت شامل ہیں۔ ٹیکنیکل کمیٹی کی پیش کردہ رپورٹ کے مطابق ان تمام 301عمارتوں کے اچانک زمین بوس ہونے کے شدید خدشات ہیں جس کے نتیجے میں المناک حادثے کے قوی امکانات ہیں اس سلسلے میں ایس بی سی اے نے خطرناک عمارتوں کے مکینوں، دکانداروں اور استعمال کنندہ کو خبردار کرتے ہوئے متنبہ کیاہے کہ قیمتی انسانی جانوں اور مالی نقصانات سے تحفظ کی خاطر ان عمارتوں کو فی الفور خالی اور ان کا استعمال ترک کر دیاجائے۔ ایس بی سی اے کی جانب سے ایک مہم کی صورت میں خستہ حالت اور غیر معیاری تعمیرات کی حامل عمارتوں کے سروے کاسلسلہ جاری ہے۔

Tags: