دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کیخلاف کچی آبادیوں میں آپریشن کا فیصلہ

August 25, 2015 1:26 pm0 commentsViews: 57

شہر کی کچی آبادیوں میں دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کے نیٹ ورک موجود ہونے کی اطلاعات ہیں جن کے خلاف آپریشن کے لیے تیاریاں شروع کردی گئی ہیں، صوبائی وزیر کچی آبادی
بلاول اور آصف زرداری کے احکامات پر کچی آبادیوں میں رہنے والوں کو مالکانہ حقوق دینے کے لیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، سندھ میں اس وقت 1409کچی آبادیاں ہیں جن میں سے 564 کراچی میں ہیں
کراچی( اسٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر کچی آبادی طارق مسعود آرائیں نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے احکامات پر کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق دینے کیلئے قدم اٹھائے جارہے ہیں‘ کچی آبادیوں کو جلد ریگولر کرکے مکینوں کو مالکانہ حقوق دیئے جائیں گے اس سلسلے مین فنڈز اور ترقیاتی کاموں کی مانیٹرنگ میں خود کروں گا‘ ایپکس کمیٹی کے فیصلے کے تحت کچی آبادیوں کے اندر دہشت گرد اور کالعدم تنظیموں کی نشآندہی کیلئے کچی آبادیوں میں جلد آپریشن شروع کیا جائیگا‘ یہ بات انہوں نے پیر کو کچی آبادی کے ڈی جی آفس میں محکمہ کی بریفنگ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی‘ طارق مسعود آرائیں نے کہا کہ کچی آبادیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں‘ وفاق کی بھی صوبے کے اندر زمینیں موجود ہیں ان کو بھی ریگولرائز کرانے کیلئے خط لکھیں گے‘ انہوں نے بتایا کہ سندھ میں اس وقت 1409 کچی آبادیاں ہیں جس میں564 کراچی‘417 حیدر آباد میں ہیں جبکہ دیگر اضلاع میں کچی آبادیوں کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے‘ سات سال کے دوران پیپلز پارٹی کی حکومت نے صوبے کی258 کچی آبادیوں کو ریگولر کیا جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی‘ صوبائی وزیر نے بتایا کہ لوکاسٹ اسکیم کے تحت غریبوں کو گھر دیئے جائیں گے اور 1985 ء کے بعد کچی آبادیوں پر ہونے والے قبضے ختم کراکر قبضہ مافیا کیخلاف سخت کارروائی کی جائیگی۔

Tags: