روپے کی قدر میں تیزی سے کمی تین دن میں

August 26, 2015 4:40 pm0 commentsViews: 22

پاکستان میں روپے کی قدر گرتی رہی، اسٹیٹ بینک نے روپے کو استحکام دینے کے بجائے پراسرار طور پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا ہے
ملکی معیشت کو 280 ارب کا جھٹکا
پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچا کر ایک مخصوص لابی کو فائدہ پہنچایا گیا، ڈالر مہنگا ہونے سے صرف تین دن میں بیرونی قرضوں میں 160 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا، اسٹیٹ بینک نے بہتری کے لئے اقدامات نہیں کیے، کامران خان کاتجزیہ
عالمی حالات سے آگاہ ہیں اور ملکی معیشت پراس کے اثرات کا بھی بغور جائزہ لے رہے ہیں، کرنسی کا گرنا بین الاقوامی اتار چڑھائو ہے، اس کا سبب ملکی معیشت کی کمزوری نہیں ہے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی وضاحت
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک/کامرس رپورٹر) پاکستان کی معیشت ایک بار پھر شدید خطرات سے دوچار ہوگئی ہے‘ روپے کی قدر کم ہونے سے تین دن میں پاکستانی معیشت کو280 ارب روپے کا جھٹکا لگا ہے جس سے ایک مخصوص لابی کو فائدہ ہوا ہے ‘تجزیہ کار کامران خان کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اسٹاک ایکسچینج مارکیٹوں میں گزشتہ چار دن کے دوران بھونچال آیا ہوا ہے‘ مگرپاکستان میں لگتا ہے کہ یہ بھونچال اپنا پیدا کردہ ہے جس کی وجہ سے روپے کی قیمت میں تیزی سے کمی ہوئی ہے اور اس کی وجہ سے ملکی معیشت کو صرف تین دن میں280 ارب روپے کی چپت لگی اور اس سے ایک مخصوص لابی کو فائدہ حاصل ہوگا‘ اور لگتا ہے کہ اس بحران کے پیچھے یہی لابی ہے‘ روپے کی قدر گرتی رہی اور اسٹیٹ بینک نے پر اسرار طور پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا ہے ‘اس حوالے سے تجزیہ کرتے ہوئے بتایا کہ دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں بحال کا عمل شروع ہوگیا لیکن پاکستان میں اسٹاک مارکیٹ میں بہتری تو ضرور ہوئی تاہم حیرت ناک طورپر روپے کی قدر میں پھر گراوٹ آئی ہے‘ ڈالر کے مقابلے میں پچھلے تین دن کے دوران روپے کی قدر میں3 فیصد کمی ہوئی ہے ‘ا س سے پاکستان کو سخت نقصان ہوگا مگر اسٹیٹ بینک نے دوسرے ممالک کے برعکس اس کو روکنے کیلئے کچھ نہیں کیا‘ ڈالر سرکاری طورپر 104 روپے30پیسے کی سطح پر پہنچ گیا اور اوپن مارکیٹ میں105 روپے کا ہوگیا ہے‘ ڈاکٹر مہنگا ہونے سے صرف تین دن میں پاکستان کے بیرونی قرضوں میں160 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا ہے‘ خاموش معاہدے یا خاموش پالیسی نتیجہ ہو‘ پاکستان دوسرے ممالک سے46 ارب ڈالر سالانہ کی درآمد کرتا ہے‘ ڈالر مہنگا ہونے سے مصنوعات کی درآمد پر اندازاً120 ارب روپے اضافی خرچ ہوں گے نیز پیٹرولیم مصنوعات جو پوری دنیا میں سستی ہوگئی ہیں ان کی قیمتیں پاکستان میں مزید کم نہیں ہوں گی اور حکومت کو روپے کی قیمت میں کمی کا ایک اور بہانہ مل گیا ہے‘ اس طرح کل ملا کر تین دن میں معیشت کو 280 ارب روپے کا نقصان ہوچکا اور اس کا براہ راست اثر عوام پر ہوگا۔دوسری طرف اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ منڈیوں کے حوالے سے عالمی حالات سے آگاہ ہیں اور ملکی معیشت پر اس کے اثرات کا بھی بغور جائزہ لے رہے ہیں‘11 اگست کو چینی یوآن کی قیمت میں کمی کے ساتھ دنیا بھر خصوصاً ترقی پذیر ملکوں میں کرنسی کی قیمت گرنے میں تیزی آگئی ہے‘ ان میں سے بیشتر ممالک نے اپنی کرنسی کی قیمت گرنے دی‘ جس کی بنیادی وجہ چین سے اپنی کاروباری مسابقت برقرار رکھنا تھی‘ پاکستان بھی عالمی معیشتوں کا حصہ ہے اور عالمی حالات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا‘ اس بناء پر ملکی معیشت پر ممکنہ اثرات اور شرح مبادلہ میں کمی کے حوالے سے توقعات بڑھ گئیں‘ کرنسی کا گرنا بین الاقوامی اتار چڑھائو ہے‘ اس کا سبب ملکی معیشت کی کمزوری نہیں‘ ہمارا بیرونی شعبہ مضبوط ہے اور ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔

Tags: