ایک آمر نے بلوچستان کو آگ لگادی‘ وزیر اعلیٰ عبدالمالک

August 26, 2015 5:01 pm0 commentsViews: 26

بلوچ انتہا پسندوں سے مذاکرات کرکے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں‘ بلوچ ہمیشہ نعروںکی زد میں رہے ہیں ہم حالت جنگ میں ہیں
سندھ پنجاب اور کراچی میں ہمارے لوگ بکھرے ہوئے ہیں انہیں ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا ہے غوث بخش بزنجو کی برسی پر تقریب سے خطاب
کراچی( اسٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچ انتہا پسندوں سے مذاکرات کرکے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت ہم حالت جنگ میں، راہداری کے حوالے سے بے شمار خدشات ہیں جس میں بلوچ تشخص کا خیال رکھا جائے۔ بلوچ ہمیشہ نعروں کی زد میں رہے ہیں۔ اور نعروں نے بلوچوں کو بہت متاثر کیا ہے۔ اب اگر غیر جمہوری قوتوں نے دھاوا بولا تو ہم ان کے خلاف ڈٹ جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو آرٹس کونسل میں میر بخش بزنجو یادگاری کمیٹی کے تحت منعقدہ غوث بخش بزنجو کی26 ویں برسی کے موقع پر تقریب سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ہم لا پتہ افراد کا مسئلہ بھی حل کر رہے ہیں مسخ شدہ لاشوں میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی بلوچستان میںبہت خون بہہ گیا ہے۔ ہمارے نوجوان مارے گئے ہیں۔ اسکول تباہ ہوگئے ہیں۔ ہمیں سنجیدگی سے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ ایک آمر نے بلوچستان کو آگ لگا دی لیکن اگر میر بخش بزنجو ہوتے تو شاید ایسے حالات پیدا نہ ہوتے۔ سندھ، پنجاب اور کراچی میں ہمارے لوگ بکھرے ہوئے ہیں ان کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اللہ نذر کی ہلاکت کا کوئی علم نہیں قبل ازیں نیشنل پارٹی کے صدر میر حاصل خان بزنجو نے کہا کہ آج مذہب کے نام پر پوری سوسائٹی قبضے میں آگئی ہے، دہشت گردی ایک سوچ ہے۔ اس کو سیاست کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے ۔

Tags: