پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث ٹارگٹ کلرز کی عدالت میں پیشی

August 26, 2015 5:13 pm0 commentsViews: 28

ملزمان نے ایس ایچ او بریگیڈ ناصر الحسن سمیت کئی پولیس افسران و اہلکاروں کو قتل کیا تھا
کراچی (اسٹاف رپورٹر )پاکستان رینجرز سندھ نے پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ میں گرفتار متحدہ قومی موومنٹ کے 3 ٹارگٹ کلروں کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کردیا،گرفتار ملزمان نے ایس ایچ او بریگیڈ سمیت کئی پولیس اہلکاروں کو قتل کیا تھا، پاکستان رینجرز سندھ کی طرف سے جاری ہونے والے اعلامیئے کے مطابق ملزم مبارک علی عرف لنگڑاکو انسداد ہشت گردی عدالت میں پیش کر کے 90 روز کے لیے ریمانڈپر لے لیا،ملزم نے 1990ء میں سولجر بازار تھانے کے اے ایس آئی سمیت 12 افراد کو قتل کرنے کے علاوہ بھتہ خوری ، جلاؤگھیراؤاور ہڑتالوں کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے میں بھی ملوث ہے ، پاکستان رینجرز سندھ نے ٹارگٹ کلر عادل عرف پگلا کو بھی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا جو کہ کراچی شہرمیں ٹارگٹ کلنگ کی کئی وارداتوں میں ملوث ہے ملزم پولیس اہلکاروں کے قتل میں بھی ملوث رہا ہے ، اور اسکا نام پاکستان رینجرز سندھ کی طرف سے فاروق ستار کو ارسال کی گئی لسٹ میں سیریل نمبر 2پر ہے ، ملزم نے بریگیڈ تھانے کے ایس ایچ او انسپکٹر ناصر الحسن ، بریگیڈ تھانے کے سپاہی خرم بٹ اور سی آئی اے صدر کے ہیڈ کانسٹیبل مقبول احمد کے قتل میں ملوث ہے ، ملزم بھتہ خوری ، ہڑتال کرانے میں اور جلاؤ گھیراؤمیں بھی ملوث ہے ، پاکستان رینجرز سندھ نے پولیس اہلکاروں کی کلنگز میں ملوث ایک اور ٹارگٹ کلر لیاقت حسین عرف ترک کو بھی گرفتار کیا ہے جو کہ قتل کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہے ملزم نے سی آئی ڈی گارڈن کے اہلکار پولیس کانسٹیبل ثناء اللہ کو 20نومبر 2001میں قتل کیا تھا ، ملزم سے تفتیش جاری ہے اور مزید انکشافات متوقع ہے۔

Tags: